جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

تحریک انصاف نے پہلے 100 دن میں ہی تاریخ بدلنے کا اعلان کر دیا، خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کے ساتھ فوراً ہی کیا سلوک ہو گا؟ عالمی ادائیگیوں کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع نہیں بلکہ کون سے 2 اقدامات کیے جائیں گے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 2  اگست‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں سے نمٹا جائے گا۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر جو کہ تحریک انصاف کی جانب سے متوقع وزیر خزانہ ہیں انہوں نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں بتایا کہ پہلے سو روز کے اندر منتخب سرکاری کمپنیوں کو ویلتھ فنڈ کو سونپ دیں گے جسے نجی شعبے کے افراد رہنمائی فراہم کریں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کا نقصان اور قرض کم کرنے کا ذمہ دار ویلتھ فنڈ ہو گا، انہوں نے بتایا کہ فنڈ یہ بھی بتائے گا کہ کس ادارے کی نج کاری کی جائے اور کس کمپنی میں اصلاحات لائی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادائیگیوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، اسد عمر نے کہا کہ عالمی بانڈز کی فروخت اور سعودی عرب سے خام تیل کی ادائیگیاں موخر کرنے کا بھی کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال بہت خراب ہے لیکن ہم نے اس سے نمٹنے کا چیلنج قبول کیا ہے، پاکستان کے لیے جو بہتر آپشن ہو گا وہ اپنائیں گے، اسد عمر نے معروف صحافی کامران خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سمیت کوئی بھی آپشن نہیں چھوڑا جا سکتا، جس نہج پر پہنچ چکے ہر آپشن کو اپنانا ہو گا۔ انہوں نے دوران گفتگو کہا کہ اگر پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا جا سکتا ہے تو باقی اداروں کو کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی مداخلت کو تمام اداروں سے ختم کریں گے، ادارے بہتر ہوں گے تو سرکلر ڈیٹ والا مسئلہ نہیں ہو گا۔ ایف بی آر کی لیڈر شپ ایسی ہو جن کی اپنی کریڈیبلٹی ہو، انہوں نے کہا کہ ٹاپ لیڈرشپ میں ریفارمز کے فیصلے ہفتوں میں ہوں گے۔ اسد عمر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ ہر پانچ سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جھولی نہ پھیلانا پڑے، گھبرانے کی بات نہیں، حل نکال لیا جائے گا۔ اسد عمر نے کہا کہ معیشت کے اندر حکومت کا کام سہولت کار کا ہے، اصل کام نجی شعبے نے کرنا ہے، دو کونسل بنانے جا رہے ہیں، ایک اکانومی کونسل اور دوسری بزنس ایڈوائزری کونسل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری اور اکانومی کونسل کے ذریعے پاکستان کا پلان بنائیں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ ہم اداروں کی کمزوریوں کو ٹھیک کریں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…