جمعرات‬‮ ، 11 جون‬‮ 2026 

تحریک انصاف نے پہلے 100 دن میں ہی تاریخ بدلنے کا اعلان کر دیا، خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کے ساتھ فوراً ہی کیا سلوک ہو گا؟ عالمی ادائیگیوں کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع نہیں بلکہ کون سے 2 اقدامات کیے جائیں گے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 2  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں سے نمٹا جائے گا۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر جو کہ تحریک انصاف کی جانب سے متوقع وزیر خزانہ ہیں انہوں نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں بتایا کہ پہلے سو روز کے اندر منتخب سرکاری کمپنیوں کو ویلتھ فنڈ کو سونپ دیں گے جسے نجی شعبے کے افراد رہنمائی فراہم کریں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کا نقصان اور قرض کم کرنے کا ذمہ دار ویلتھ فنڈ ہو گا، انہوں نے بتایا کہ فنڈ یہ بھی بتائے گا کہ کس ادارے کی نج کاری کی جائے اور کس کمپنی میں اصلاحات لائی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادائیگیوں کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف سمیت مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، اسد عمر نے کہا کہ عالمی بانڈز کی فروخت اور سعودی عرب سے خام تیل کی ادائیگیاں موخر کرنے کا بھی کہا جا سکتا ہے۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال بہت خراب ہے لیکن ہم نے اس سے نمٹنے کا چیلنج قبول کیا ہے، پاکستان کے لیے جو بہتر آپشن ہو گا وہ اپنائیں گے، اسد عمر نے معروف صحافی کامران خان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سمیت کوئی بھی آپشن نہیں چھوڑا جا سکتا، جس نہج پر پہنچ چکے ہر آپشن کو اپنانا ہو گا۔ انہوں نے دوران گفتگو کہا کہ اگر پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا جا سکتا ہے تو باقی اداروں کو کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ سیاسی مداخلت کو تمام اداروں سے ختم کریں گے، ادارے بہتر ہوں گے تو سرکلر ڈیٹ والا مسئلہ نہیں ہو گا۔ ایف بی آر کی لیڈر شپ ایسی ہو جن کی اپنی کریڈیبلٹی ہو، انہوں نے کہا کہ ٹاپ لیڈرشپ میں ریفارمز کے فیصلے ہفتوں میں ہوں گے۔ اسد عمر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ ہر پانچ سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جھولی نہ پھیلانا پڑے، گھبرانے کی بات نہیں، حل نکال لیا جائے گا۔ اسد عمر نے کہا کہ معیشت کے اندر حکومت کا کام سہولت کار کا ہے، اصل کام نجی شعبے نے کرنا ہے، دو کونسل بنانے جا رہے ہیں، ایک اکانومی کونسل اور دوسری بزنس ایڈوائزری کونسل ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس ایڈوائزری اور اکانومی کونسل کے ذریعے پاکستان کا پلان بنائیں گے۔ اسد عمر نے کہا کہ ہم اداروں کی کمزوریوں کو ٹھیک کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…