منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کے امیدوار سابق صوبائی وزیر اکرام اللہ خان گنڈا پور کہاں جارہے تھے کہ خودکش حملے کا نشانہ بن گئے؟دھماکے کی جگہ سے سیکورٹی اداروں کو کیا کچھ ملا؟افسوسناک تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 22  جولائی  2018 |

ڈیرہ اسماعیل خان (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی نشست کیلئے امیدوار اور سابق صوبائی وزیر اکرام اللہ خان گنڈا پور خودکش حملے میں شہید ہوگئے ٗاکرام اللہ گنڈاپور انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بننے والے تیسرے سیاستدان ہیں، عوامی نیشنل پارٹی کے ہارون بلور اور بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی بھی انتخا بی مہم کے دور ان خودکش حملوں میں شہید ہوچکے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ڈی آئی خان نعمان افضل آفریدی نے میڈیا کو بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں خودکش حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے پی ٹی آئی امیدوار سردار اکرام اللہ خان گنڈا پور طبی امداد کے دوران چل بسے۔قبل ازیں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او )نے بتایا کہ تحصیل کلاچی سے صوبائی نشست کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار سردار اکرام اللہ خان گنڈاپور کی گاڑی پر خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ان سمیت 4 افراد زخمی ہوئے۔ اکرام اللہ گنڈا پور اور دیگر زخمیوں کو طبی امداد کے لیے سی ایم ایچ ہسپتال لے جایا گیا جہاں پی ٹی آئی امیدوار دوران علاج چل بسے جبکہ ان کے خاندانی ذرائع نے بھی اکرام اللہ گنڈا پور کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اکرام اللہ گنڈاپور اپنے گھر سے نکلے تھے اور کچھ دوری پر ہی تھے کہ ان کی گاڑی کے قریب زور دار دھماکا ہوا۔کلاچی دھماکے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور جائے وقوعہ پر حصار بناتے ہوئے وہاں کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں دی۔عینی شاہد کے مطابق دھماکے کی جگہ پر ایک انسانی سر اور ٹانگیں بھی موجود ہیں۔پولیس کے مطابق اکرم اللہ گنڈا پور پانچ سال قبل جاں بحق ہونے والے اپنے بھائی اور

سابق صوبائی وزیر اسرار اللہ گنڈاپور کی شہادت میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف منعقدہ ایک احتجاجی دھرنے میں شرکت کیلئے جارہے تھے کہ اس دوران ان کا گاڑی پر حملے کیا گیا۔یاد رہے کہ سابق صوبائی وزیر اسرار اللہ گنڈا پور کو پانچ سال قبل ایک خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ مقتول کے بھائیوں نے ان کی قتل کا الزام پی ٹی آئی ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک اہم رہنما پر لگایا تھا تاہم ایف آئی آر میں ان کا نام ہونے کے باوجود

ابھی تک اس ضمن میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔ادھر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اکرام اللہ گنڈا پور کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کیلئے صحت یابی کی دعا کی ۔ یاد رہے کہ اکرام اللہ گنڈا پور صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 99 سے تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔10 جولائی کو پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ میں دھماکے کے نتیجے میں اے این پی امیدوار ہارون بلور

سمیت 22 افراد شہید اور کئی زخمی ہوئے۔13 جولائی کو مستونگ میں انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت 150 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے ٗ13 جولائی کو ہی متحدہ مجلس عمل کے این اے 35 بنوں سے امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جس میں 4 افراد شہید ہوئے۔17 جولائی کو سابق وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے این اے 55 اٹک سے امیدوار شیخ آفتاب کامرہ میں انتخابی مہم میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تاہم وہ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…