اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

سردار پٹیل پاکستان کو کشمیر دینا چاہتے تھے ، لیکن جواہر لال نہرو اس کے حق میں نہیں تھے،کانگریسی رہنماسیف الدین سوز کی کتاب نے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ہنگامہ کھڑا کردیا

datetime 25  جون‬‮  2018 |

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک)کانگریسی رہنما سیف الدین سوز نے کشمیرکے مسئلہ پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے دعوی کیا کہ سردار پٹیل پاکستان کو کشمیر دینا چاہتے تھے، قیام امن کے لئے ضروری ہے بھارت پاکستان مابین کشمیر کی سرحد تبدیل نہ ہو،سوز کا بیان سردار پٹیل کی بے عزتی ہے ، کانگریس کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے رہنما سیف الدین سوز نے کشمیرکے مسئلہ پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے دعوی کیا کہ سردار پٹیل پاکستان کو کشمیر دینا چاہتے تھے ، لیکن جواہر لال نہرو اس کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا دعوی ہے کہ پٹیل آخری دم تک کشمیر پاکستان کے حوالے کرنا چاہتے تھے ۔ سوز نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کی سرحد تبدیل نہ ہو۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن قائم کرنے کیلئے حل یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کی سرحد تبدیل نہ ہو۔کشمیر سے متعلق ان کی آنے والی کتاب پرتنازع کے سلسلے میں کہا کہ کتاب میں کوئی ایسی بات نہیں ہے ، جس سے کانگریس ناراض ہو۔ سوز نے کہا کہ میں نے کتاب میں لکھا ہے کہ سردار پٹیل چاہتے تھے کہ کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے، لیکن نہرو کشمیر کوبھارت میں رکھنے کے حق میں تھے۔ آخری دم تک پٹیل چاہتے تھے کہ کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے۔ادھر بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین نے اس معاملہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس سوز کے بیان سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرسکتی۔ سوز کا بیان سردار پٹیل کی بے عزتی ہے ، کانگریس کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ کانگریسی رہنما سیف الدین سوز نے کشمیرکے مسئلہ پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے دعوی کیا کہ سردار پٹیل پاکستان کو کشمیر دینا چاہتے تھے، قیام امن کے لئے ضروری ہے بھارت پاکستان مابین کشمیر کی سرحد تبدیل نہ ہو،سوز کا بیان سردار پٹیل کی بے عزتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…