بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

سردار پٹیل پاکستان کو کشمیر دینا چاہتے تھے ، لیکن جواہر لال نہرو اس کے حق میں نہیں تھے،کانگریسی رہنماسیف الدین سوز کی کتاب نے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ہنگامہ کھڑا کردیا

datetime 25  جون‬‮  2018 |

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک)کانگریسی رہنما سیف الدین سوز نے کشمیرکے مسئلہ پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے دعوی کیا کہ سردار پٹیل پاکستان کو کشمیر دینا چاہتے تھے، قیام امن کے لئے ضروری ہے بھارت پاکستان مابین کشمیر کی سرحد تبدیل نہ ہو،سوز کا بیان سردار پٹیل کی بے عزتی ہے ، کانگریس کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس کے رہنما سیف الدین سوز نے کشمیرکے مسئلہ پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے دعوی کیا کہ سردار پٹیل پاکستان کو کشمیر دینا چاہتے تھے ، لیکن جواہر لال نہرو اس کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا دعوی ہے کہ پٹیل آخری دم تک کشمیر پاکستان کے حوالے کرنا چاہتے تھے ۔ سوز نے یہ بھی کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کی سرحد تبدیل نہ ہو۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن قائم کرنے کیلئے حل یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشمیر کی سرحد تبدیل نہ ہو۔کشمیر سے متعلق ان کی آنے والی کتاب پرتنازع کے سلسلے میں کہا کہ کتاب میں کوئی ایسی بات نہیں ہے ، جس سے کانگریس ناراض ہو۔ سوز نے کہا کہ میں نے کتاب میں لکھا ہے کہ سردار پٹیل چاہتے تھے کہ کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے، لیکن نہرو کشمیر کوبھارت میں رکھنے کے حق میں تھے۔ آخری دم تک پٹیل چاہتے تھے کہ کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے۔ادھر بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین نے اس معاملہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس سوز کے بیان سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرسکتی۔ سوز کا بیان سردار پٹیل کی بے عزتی ہے ، کانگریس کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ کانگریسی رہنما سیف الدین سوز نے کشمیرکے مسئلہ پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے دعوی کیا کہ سردار پٹیل پاکستان کو کشمیر دینا چاہتے تھے، قیام امن کے لئے ضروری ہے بھارت پاکستان مابین کشمیر کی سرحد تبدیل نہ ہو،سوز کا بیان سردار پٹیل کی بے عزتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…