جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

(ن) لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے اہم ترین سیاسی رہنما کو حلقے کے شہریوں نے گھیر کرلیا ٗ لوٹا لوٹا کے نعرے ، انتہائی افسوسناک سلوک کا نشانہ بناڈالاگیا

datetime 24  جون‬‮  2018 |

ملتان(این این آئی)(ن) لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے سکندر بوسن کو حلقے کے شہریوں نے گھیر کر لوٹا لوٹا کے نعرے لگائے۔تفصیلات کے مطابق حال ہی میں مسلم لیگ (ن) کو خیر باد کہہ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والے سابق وزیرخوراک سکندر بوسن کو ملتان کے حلقے میں نکلتے ہی شہریوں نے گھیرلیا اور لوٹا لوٹا کے نعرے بھی لگائے ٗ سکندر حیات بوسن ملتان کے حلقہ این اے 154 میں انتخابی مہم کے لئے نکلے تھے تاہم عوام کے جمِ غفیر نے ان کی گاڑی کو گھیرلیا،

عوام کا مطالبہ تھا کہ سابق وفاقی وزیر ان کے ساتھ علاقے کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پرپیدل چلیں تاکہ انہیں بھی عوام کی مشکلات کا اندازہ ہوسکے۔سکندر بوسن کی گاڑی کو گھیرنے والے عوام کا کہنا تھا کہ سکندر بوسن گزشتہ 5 سال وفاقی وزیر رہے لیکن ان کے حلقے میں ایک سڑک بھی نہیں بنی اور اب جب انتخابات قریب ہیں تو وہ دوبارہ ووٹ کی درخواست لے کر ان کے پاس آگئے ہیں لیکن 5 سال وزارت کے مزے لوٹتے ہوئے انہیں عوام کی داد رسی کا خیال نہ آیا۔ سابق وزیرخوراک غصے سے بھرے شہریوں کامنہ دیکھتے رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…