جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

نواز شریف کی وکالت سے دستبردار ہونیوالے وکیل خواجہ حارث نے بڑا سرپرائز دیدیا، عید کے بعد عدالت لگتے ہی احتساب عدالت کے روبرو پیش ہو کر بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 19  جون‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کی سات دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی گئی۔سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ، کینسر کے مرض میں مبتلا اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے

لندن میں موجود ہیں، جو وینٹی لیٹر پر ہیں اور ان کی حالت تشویش ناک ہے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی جب سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث بھی احتساب عدالت پہنچے۔جج محمد بشیر نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا وہ اپنی وکالت نامے والی درخواست واپس لے رہے ہیں؟ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ وکالت نامہ واپس لینے والی آپ کی درخواست خارج کر دی ہے جس پر نیب پراسیکوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہم نے تو مخالفت بھی نہیں کی، پھر بھی درخواست خارج ہوگئی۔خواجہ حارث نے جواب دیا کہ پہلے ایک اور درخواست دینی ہے، بطور وکیل موقف اپنانا میرا حق ہے، ہمیں بھی معلوم ہوجائے گا کہ کیس اکھٹے چلیں گے یا علیحدہ۔خواجہ حارث نے اپنی درخواست عدالت میں پڑھ کر سنائی جس میں انہوں نے اپنے تحفظات پیش کیے۔انہوں نے جج احتساب عدالت کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ ہی بتا دیں کہ اس کیس کی کارروائی کو کیسے آگے چلانا ہے، ہماری کوشش یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جائے ٗہم سب کو ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ ہر چیز کیلئے قانون ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے ہفتے کو بھی عدالت لگانے کا کہا، یہ کون سا قانون ہے؟انہوںنے کہاکہ رول آف لاء میں عدالتی وقت اور چھٹیاں مقرر کر دی گئی ہیں

اور عدالتی وقت کے بعد یا چھٹی کے دن عدالت کارروائی نہیں چلاسکتی۔خواجہ حارث نے کہا کہ عدالتی کارروائی میں تیاری کیلئے ہزاروں صفحات پڑھنے پڑتے ہیں، اگر عدالتی وقت کے بعد بھی کارروائی چلائی گئی تو اگلے دن کی تیاری نہیں ہوسکے گی اور بغیر تیاری عدالت آنا میرے موکل کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ عدالت سزا کیوں نہیں سنا رہی

جس پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ عدالت کا ایک طریقہ کار ہوتاہے، میری طرف سے انہیں کہہ دیں کہ آپ فریق نہیں تو کیوں بات کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 10 جون کو سماعت کے دوران احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز پر ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد اگلے ہی روز یعنی 11 جون نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سپریم کورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کو ہدایات دینے پر کیس کی پیروی سے معذرت کرتے ہوئے وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست دی تھی۔واضح رہے کہ عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کو 19جون کو طلب کر رکھا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…