بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

پاک آرمی کے سپاہی نے 5000 روپے کی رقم ایک خط کے ساتھ سپریم کورٹ بھجوا دی ، جانتے ہیں یہ رقم کیوں بھیجی گئی اور خط میں کیا لکھا تھا، چیف جسٹس کے حکم پر پھر اس فوجی کو کیا جواب ارسال کیا گیا؟ آپ بھی داد دئیےبغیر نہ رہ سکیں گے

datetime 6  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (ویب ڈیسک)ملک پر بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں پر جہاں سبھی تشویش میں مبتلا ہے وہیں پاک فوج کے جوانوں میں بھی اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس بات کا پتہ اس وقت چلا جب پاک فوج کے ایک جوان نے 5ہزار روپے سپریم کورٹ بھجوادئیے۔ تفصیلات کے مطابق ملک پر بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے جہاں ہر شہری لاکھوں روپے کا مقروض ہو چکا ہے

وہیں ماہرین معاشیات بھی اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ملکی معیشت اور اقتصادی صورتحال پر عوام بھی خاصے پریشان دکھائی دیتے ہیں ۔ اس صورتحال میں اس وقت سب حیران رہ گئے جب ملک کے قرضے اتارنے کیلئے پاک فوج کا ایک ریٹائر سپاہی منظر عام پر آیا اور اس نے اپنی استطاعت کے مطابق ملک کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو 5ہزار ر وپے بھجوا دئیے ۔ منڈی بہائو الدین سے تعلق رکھنے والے ریٹائر نائیک محمد اسلم نےر قم کیساتھ بھیجے گئے خط میںتحریر کیا ہے کہ پاکستان کے قرضے بہت بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے برائے مہربانی 5 ہزار روپے کی رقم قبول کریں اور یہ رقم حکومت پاکستان کو قرضوں کی واپسی کیلئے دے دی جائے۔نائیک محمد اسلم کے خط کے جواب میں سپریم کورٹ کی جانب سے بھی جوابی خط تحریر کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ سپاہی نائیک محمد کا یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لوگ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔ تاہم کسی قسم کی رقم کی وصولی سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں ہے، اس لیے وہ 5 ہزار روپے کی رقم سپاہی نائیک محمد کو واپس بھجوا رہے ہیں۔ریٹائر نائیک محمد اسلم کے اس اقدام پر سوشل میڈیا پر خاصی دھوم مچی ہوئی اور صارفین پاک فوج کے اس سپوت کی جانب سے ملک کو بچانے کیلئے کی جانے والی سعی اور بڑھتے ہوئے ملکی قرضوں کی جانب توجہ مبذول کرانے کو خوب سراہ رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…