جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

ممبئی حملوں پر اچانک سرل المیڈا کو ملتان ائیرپورٹ بلا کر نواز شریف نے متنازعہ انٹرویو کیوں دیا؟وجہ سامنے آگئی، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 14  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ انٹرویو کے بعد بھونچال کی سی کیفیت ہے اور قومی سلامتی کمیٹی کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس نے قائد ن لیگ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا ہے۔ نواز شریف کا انٹرویو منظر عام پر آنے کے بعد کئی سوالات بھی سامنے آئے ہیں کہ ن لیگ کو درپیش سیاسی

مشکلات کے اس دور میں نواز شریف کی جانب سے ایسا انٹرویو اور بیان سامنے آنے کے کیا نتائج سامنے آئیں گے۔ وائس آف امریکہ کے ایک پروگرام میں پاک بھارت تجزیہ کاروں نے اس حوالے سے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ میاں نواز شریف عالمی اسٹیبلشمنٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنا چاہتے تھے اور یہ تاثر دینا چاہ رہے ہیں کہ ان کے خلاف سزاؤں کے فیصلے کسی بدعنوانی کے سبب نہیں بلکہ عالمی بیانیے کے ساتھ کھڑے ہونے کے سبب ہیں۔سابق وزیر اعظم نواز شریف پر ان کے اس بیان پر کہ عسکریت پسند تنظیمیں اور غیر ریاستی عناصر سرگرم ہیں، کیا ہم انہیں سرحد پار کر کے ممبئ میں 150 لوگوں کو مارنے کی اجازت دیں۔ اس مقدمے کو منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچا سکے ۔ تجزیہ کار اور انگریزی اخبار دی نیوز میں کالم نگار بابر ایاز کا کہنا تھا کہ اس اعتبار سے تو خوش آئند بات ہے کہ سابق وزیراعظم کی سطح پر اس بات کا ادراک ہے کہ غیرریاستی عناصر کو استعمال کرنے کی روش ترک ہونی چاہیے۔ لیکن موجودہ حالات میں جب پارٹی سے پہلے ہی الیکٹیبلز اڑان بھر رہے ہیں ان کو مزید دھچکہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس بات کا بھی امکان ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ ان کی مدد کو آئے۔بھارت سے تجزیہ کار پشپندر کمار نے کہا کہ ان کے ملک میں سابق پاکستانی وزیراعظم کے بیان کو مختلف حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔

کانگریس سے وابستہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بیان امریکہ میں لکھا گیا ہے اور اس کا مقصد بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو آئندہ انتخابات میں فائدہ پہنچانا ہے کیونکہ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نریندر مودی کے ساتھ متعدد معاہدے کر رہی ہے اور ان سے خوش ہے۔ دوسری جانب بھارت یہ دنیا کو باور کرا رہا ہے کہ پاکستان کی حکومت عسکریت پسند گروپوں کی مدد میں ملوث ہے۔سابق فوجی افسر برگیڈیر ٹیپو سلطان

نے کہا ، ’’نواز شریف عدالت میں خود کو بے گناہ ثابت نہیں کر سکے ہیں اور اس سے پہلے کہ عدالت سے سزا سنائی جائی وہ ایسا بیانیہ پیش کر رہے ہیں کہ دنیا سمجھے کہ انہیں کسی بدعنوانی نہیں بلکہ اپنے بیانیے کی وجہ سے سزا ملی ہے۔‘‘ان کے مطابق ایسے وقت میں جب امریکہ میں صدر ٹرمپ کی قیادت والی انتظامیہ موجود ہے، نواز شریف کا یہ بیان ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

بابر ایاز کہتے ہیں کہ پاکستان میں طاقت کے حصول کے لیے رسہ کشی جاری ہے اور نواز شریف کا بیان امریکہ کو خوش کر سکتا ہے۔واضح رہے کہ نواز شریف نے اپنے متنازعہ انٹرویو میں کہا تھا کہ عسکریت پسند تنظیمیں اور غیر ریاستی عناصر سرگرم ہیں، کیا ہم انہیں سرحد پار کر کے ممبئ میں 150 لوگوں کو مارنے کی اجازت دیں۔ اس مقدمے کو منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچا سکے۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…