جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

داد رسی کے لیے تھانہ میں آنے والی خاتون کو ایس ایچ او نے بہن بنا لیا انسانیت کی ایسی اعلی مثال قائم کر دی کہ سب کے دل جیت لئے

datetime 3  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قصور میں دکھوں کی ماری خاتون داد رسی کیلئے تھانے پہنچ گئی، ایس ایچ او نے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے سب کے دل جیت لئے۔ تفصیلات کے مطابق فتح ڈھاباں پھولنگر کی رہائشی مسماۃ رابعہ دختر محمد عاشق نے تھانہ سٹی پھولنگر میں درخواست کی کہ وہ ایک غریب عورت ہے، ماں باپ وفات پا چکے ہیں اور کوئی بھائی بھی نہیں ہے میری

ایک بھینس تھی اس کو بھی میرے مخالفین نے مار دیا ہے۔ میری داد رسی کی جائے جس پر نوجوان ایس ایچ او سٹی پھولنگر ملک محمد جبار نے عورت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی جس پرمسماۃ رابعہ اپنے گھر واپس چلی گئی۔اگلے روز رابعہ بی بی کی اس وقت خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس نےایس ایچ او سٹی پھولنگر ملک محمد جبار کو اپنے دروازے پر کھڑا پایا۔ ایس ایچ اوملک محمد جبار دکھوں کی ماری مسماۃ رابعہ کیلئے کسی فرشتے سے کم نہ تھےکیونکہ انہوں نے رابعہ کے سر پر ہاتھ رکھ انہیں اپنی منہ بولی بہن بنا لیا۔ ایس ایچ او نے رابعہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ میں تمہارا آج سے چھوٹا بھائی ہوں ۔ رابعہ کے سر پر ہاتھ رکھنے کی دیر تھی کہ تن تنہا حالت کا مقابلہ کرنیوالی اس دکھیاری کی آنکھیں چھلک پڑیں جس پر ملک محمد جبار نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو اکیلا نہ سمجھے اس کا بھائی بھی ہے اور وہ تنہا نہیں۔ رابعہ نے واپسی پر ایس ایچ او ملک محمد جبار اور اپنے منہ بولے چھوٹے بھائی کو پھول کی پتیوں کے ساتھ الوداع کیا۔ ایس ایچ او تھانہ سٹی پھولنگر کی جانب سے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرنے پر علاقہ مکینوں کے ساتھ ساتھ میڈیا نمائندوں نے بھی ان کے اس عمل کو خوب سراہا ہے اور سوشل میڈیا پر صارفین ملک محمد جبار کے گرویدہ ہو گئے ہیں۔ رابعہ کے سر پر ہاتھ رکھنے کی دیر تھی کہ تن تنہا حالت کا مقابلہ کرنیوالی اس دکھیاری

کی آنکھیں چھلک پڑیں جس پر ملک محمد جبار نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو اکیلا نہ سمجھے اس کا بھائی بھی ہے اور وہ تنہا نہیں۔ رابعہ نے واپسی پر ایس ایچ او ملک محمد جبار اور اپنے منہ بولے چھوٹے بھائی کو پھول کی پتیوں کے ساتھ الوداع کیا۔ ایس ایچ او تھانہ سٹی پھولنگر کی جانب سے انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرنے پر علاقہ مکینوں کے ساتھ ساتھ میڈیا نمائندوں نے بھی ان کے اس عمل کو خوب سراہا ہے اور سوشل میڈیا پر صارفین ملک محمد جبار کے گرویدہ ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…