جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

آزادی صحافت پرقفل لگانا انسانی ذہن کی سوچ کے دریچوں کوبند کرنا ہے، شہبازشریف

datetime 3  مئی‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ آزادی صحافت پرقفل لگانے کا مطلب انسانی ذہن کی آزاد سوچ کے کھلے دریچوں کوبند کرنا ہے،آزادی صحافت ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی بھی ہے،صحافت رائے عامہ کی تشکیل اورقومی شعوراجاگر کرنے کیلئے انتہائی اہم ذریعہ ہے، صحافت کی موجودہ آزادی کسی کی دی ہوئی نہیں بلکہ صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پرپیغام میں کہا کہ ورلڈ پریس فریڈم ڈے کومنانے کا مقصد آزادی صحافت کی اہمیت، افادیت اورصحافتی ذمہ داریوں کو اجاگرکرنا ہے، صحافت رائے عامہ کی تشکیل اورقومی شعوراجاگر کرنے کیلئے انتہائی اہم ذریعہ ہے، آزادی اظہاررائے، مثبت اوربامقصد صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی اساس ہوتی ہے، آزادی صحافت ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی اورصحافیوں کے پیشہ ورانہ امورکیلئے محفوظ ماحول حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، حکومت صحافی برادری کوذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران دبا سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی، حکومت میڈیا کی آزادی اورصحافی برادری کوہرقسم کے دبا سے محفوظ رکھنے کیلئے ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ صحافت کی موجودہ آزادی کسی کی دی ہوئی نہیں بلکہ صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے، آزادی صحافت پرقفل لگانے کا مطلب انسانی ذہن کی آزاد سوچ کے کھلے دریچوں کو بند کرنا ہے، ذمہ دارانہ صحافت ملک کو کرپشن، لاقانونیت اور دہشت گردی سے چھٹکارا دلانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے جب کہ آزاد صحافت کا جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی پاسداری میں اہم کرادار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…