منگل‬‮ ، 24 فروری‬‮ 2026 

آزادی صحافت پرقفل لگانا انسانی ذہن کی سوچ کے دریچوں کوبند کرنا ہے، شہبازشریف

datetime 3  مئی‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) وزیراعلی پنجاب شہبازشریف نے کہا ہے کہ آزادی صحافت پرقفل لگانے کا مطلب انسانی ذہن کی آزاد سوچ کے کھلے دریچوں کوبند کرنا ہے،آزادی صحافت ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی بھی ہے،صحافت رائے عامہ کی تشکیل اورقومی شعوراجاگر کرنے کیلئے انتہائی اہم ذریعہ ہے، صحافت کی موجودہ آزادی کسی کی دی ہوئی نہیں بلکہ صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پرپیغام میں کہا کہ ورلڈ پریس فریڈم ڈے کومنانے کا مقصد آزادی صحافت کی اہمیت، افادیت اورصحافتی ذمہ داریوں کو اجاگرکرنا ہے، صحافت رائے عامہ کی تشکیل اورقومی شعوراجاگر کرنے کیلئے انتہائی اہم ذریعہ ہے، آزادی اظہاررائے، مثبت اوربامقصد صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی اساس ہوتی ہے، آزادی صحافت ایک بنیادی انسانی حق ہونے کے ساتھ تمام آزادیوں کی کسوٹی بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آزادی اورصحافیوں کے پیشہ ورانہ امورکیلئے محفوظ ماحول حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، حکومت صحافی برادری کوذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران دبا سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی، حکومت میڈیا کی آزادی اورصحافی برادری کوہرقسم کے دبا سے محفوظ رکھنے کیلئے ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ صحافت کی موجودہ آزادی کسی کی دی ہوئی نہیں بلکہ صحافیوں کی جدوجہد کا نتیجہ ہے، آزادی صحافت پرقفل لگانے کا مطلب انسانی ذہن کی آزاد سوچ کے کھلے دریچوں کو بند کرنا ہے، ذمہ دارانہ صحافت ملک کو کرپشن، لاقانونیت اور دہشت گردی سے چھٹکارا دلانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے جب کہ آزاد صحافت کا جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی پاسداری میں اہم کرادار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نواز شریف کی سیاست میں انٹری


لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…