اتوار‬‮ ، 21 جون‬‮ 2026 

قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سی ڈی اے اور ٹھیکیداروں میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں اور کمیشن اور مک مکاؤ پر شدید اختلافات، تفصیلات منظر عام پر آ گئیں

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد ( نیوز ڈیسک ) قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سی ڈی اے اور ٹھیکیداروں میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیوں اور کمیشن اور مک مکاؤ پر شدید اختلافات ، خواجہ کنسٹرکشن کمپنی نے ہائیکورٹ میں من پسند ٹھیکیداروں کو چیک جاری کرنے پر رٹ پٹیشن دائر کردی ہے۔چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کا نام استعمال کرکے رات کی تاریکی میں معاملات طے اور مک مکاؤ کرلیا گیا۔سینیٹ کے ذمہ دار ذرائع نے آن لائن کو بتایا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں سی ،ڈی ،

اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر فاروق اعظم نے پارلیمنٹ کیلئے سی ڈی ،اے کی طرف سے جاری دوکروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی قسط کے بعد من پسند ، منظور نظر اور پچاس فیصد کمیشن دینے والے ٹھیکیداروں کو چیک جاری کردیے ، جس پر درجنوں ایسے ٹھیکیدار جنہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت دیگر افسران بھی شامل ہیں کو کمیشن یا رشوت دینے سے انکار کردیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خواجہ اینڈ کنسٹریکشن کمپنی کے مالک خواجہ معین کو میرٹ پر چیک جاری نہیں کیے گئے تو انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر تمام اثرورسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی۔جس کے بعد سی ، ڈی، اے اور دیگر کمیشن مافیا نے انہیں دھمکیاں دینا شروع کردی ، جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پیٹیشن دائر کردی ہے۔ جس میں کمیشن مافیا کو بے نقاب کیا گیا ہے تاہم بیوکریسی کی چند معتبر شخصیات نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا نام استعمال کرتے ہوئے خواجہ معین اینڈ کمپنی کو یقین دھانی کروائی کہ انکے تمام بقایا جات کے چیک جاری کیے جائیں گے نہ صرف چیک جار ی ہونگے بلکہ سی ڈی اے کے افسران بنک کے عملے کے پاس جاکر رقم نکلوا کرانکے ہاتھ پر رکھیں گے ۔جس کے بعد انہوں نے رٹ پیٹیشن واپس کردی ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہائیکورٹ نے خواجہ اینڈ کمپنی کی درخواست پر گزشتہ کئی سالوں سے پارلیمنٹ ہاؤس میں کام کرنے والے

ٹھیکیداروں جنہیں کروڑوں روپے کی سی، ڈی ،اے نے ادائیگیاں نہیں کی تھی کی تفصیلات طلب کرلی تھی جس کے بعد پارلیمنٹ کے اندر کام کرنے والے سی، ڈی ، اے سمیت بیوکریسی کے شرفاء کے نام بے نقاب ہونے کا امکان تھا، تاہم بیوکریسی کے ان احکام نے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر کا نام استعمال کرکے خواجہ اینڈ کمپنی کو رٹ پیٹشن واپس کرنے پر مجبورکیا اوردھمکی دی کہ اگررٹ کو واپس نہ لیا گیا تو انکی کمپنی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں بلیک لسٹ قراردے دیا جائے گا۔



کالم



محمد بوٹا انجم


محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…