پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف کے گرد گھیرا تنگ ، نیب نے بڑا فیصلہ کرلیا کیا ہونے جارہا ہے؟(ن )لیگ ہل کر رہ گئی

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں پہلے ایون فیلڈ ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کی گئی، اس موقع پر نامزد تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

سماعت کے آغاز پر نواز شریف نے تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرنے کی درخواست دائر کی جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے اعتراض اٹھایا اور کہا کہ گواہ کٹہرے میں پیش ہو چکا ہے اور اب یہ نئی درخواست لے آئے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے وکیل واجد ضیاء پر جرح سے پہلے تینوں ریفرنسز میں بیان کا سوچتے، وکیل صفائی کارروائی کو بلڈوز کرنا چاہتے ہیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم پہلے مرحلے میں لندن فلیٹس ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرنا چاہتے ہیں ٗنیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر صرف ایون فیلڈ ریفرنس میں تفتیشی ہیں اس لیے پہلے ان کا بیان ریکارڈ کرلیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ استغاثہ کے گواہوں کی ترتیب پراسیکیوشن کا قانونی اختیار ہے، واجد ضیاء کے بعد فطری طور پر تفتیشی افسر اگلے گواہ ہیں۔اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے متفرق درخواست جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کرنے سے ہمارا دفاع متاثر ہوگا۔احتساب عدالت کے جج نے تفتیشی افسر عمران ڈوگر کا بیان ریکارڈر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وکیل صفائی کی درخواست پر فیصلہ بعد میں سنایا جائیگا۔نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ بطور ڈپٹی ڈائریکٹر نیب لاہور میں کام کررہا ہوں، نیب ریفرنس کی تفتیش شروع کی تو اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب تھا۔

عمران ڈوگر نے بتایا کہ 28 جولائی 2017 کے فیصلے کے بعد مجاز اتھارٹی نے تفتیش کیلئے تعینات کیا اور 3 اگست 2017 کو ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق تحقیقات سونپیں ٗ مجاز اتھارٹی نے نواز شریف، مریم، حسن اور حسین نواز سمیت کیپٹن (ر) صفدر سے تفتیش کرنے کا کہا۔نیب کے گواہ نے کہا کہ ملزمان سے تفتیش ایون فیلڈ پراپرٹی سے متعلق تھی، سپریم کورٹ سے حاصل جے آئی ٹی کے والیم 1 سے والیم 9 اے ریفرنس کا اہم جزو ہیں۔اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ جے آئی ٹی رپورٹ کیسے پیش کرسکتے ہیں جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ ایک دستاویز ہے جسے بطور شواہد حاصل کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…