جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف کے گرد گھیرا تنگ ، نیب نے بڑا فیصلہ کرلیا کیا ہونے جارہا ہے؟(ن )لیگ ہل کر رہ گئی

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں پہلے ایون فیلڈ ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت کی گئی، اس موقع پر نامزد تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

سماعت کے آغاز پر نواز شریف نے تینوں ریفرنسز میں واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرنے کی درخواست دائر کی جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے اعتراض اٹھایا اور کہا کہ گواہ کٹہرے میں پیش ہو چکا ہے اور اب یہ نئی درخواست لے آئے ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نواز شریف کے وکیل واجد ضیاء پر جرح سے پہلے تینوں ریفرنسز میں بیان کا سوچتے، وکیل صفائی کارروائی کو بلڈوز کرنا چاہتے ہیں۔ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم پہلے مرحلے میں لندن فلیٹس ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرنا چاہتے ہیں ٗنیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر صرف ایون فیلڈ ریفرنس میں تفتیشی ہیں اس لیے پہلے ان کا بیان ریکارڈ کرلیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ استغاثہ کے گواہوں کی ترتیب پراسیکیوشن کا قانونی اختیار ہے، واجد ضیاء کے بعد فطری طور پر تفتیشی افسر اگلے گواہ ہیں۔اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے متفرق درخواست جمع کرائی گئی جس میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کرنے سے ہمارا دفاع متاثر ہوگا۔احتساب عدالت کے جج نے تفتیشی افسر عمران ڈوگر کا بیان ریکارڈر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وکیل صفائی کی درخواست پر فیصلہ بعد میں سنایا جائیگا۔نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ بطور ڈپٹی ڈائریکٹر نیب لاہور میں کام کررہا ہوں، نیب ریفرنس کی تفتیش شروع کی تو اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب تھا۔

عمران ڈوگر نے بتایا کہ 28 جولائی 2017 کے فیصلے کے بعد مجاز اتھارٹی نے تفتیش کیلئے تعینات کیا اور 3 اگست 2017 کو ایون فیلڈ پراپرٹیز سے متعلق تحقیقات سونپیں ٗ مجاز اتھارٹی نے نواز شریف، مریم، حسن اور حسین نواز سمیت کیپٹن (ر) صفدر سے تفتیش کرنے کا کہا۔نیب کے گواہ نے کہا کہ ملزمان سے تفتیش ایون فیلڈ پراپرٹی سے متعلق تھی، سپریم کورٹ سے حاصل جے آئی ٹی کے والیم 1 سے والیم 9 اے ریفرنس کا اہم جزو ہیں۔اس موقع پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ جے آئی ٹی رپورٹ کیسے پیش کرسکتے ہیں جس پر ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ ایک دستاویز ہے جسے بطور شواہد حاصل کیا گیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…