جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

342 کے منتخب ایوان کو بائی پاس کر کے ایک غیر منتخب شخص کے ذریعے بجٹ پیش کرا کر ایوان کا استحقاق مجروح کیا گیا، غیر منتخب لوگوں کے ذریعے ایوان کی بالادستی تسلیم نہیں،اس آرٹیکل کی تشریخ سپریم کورٹ کر سکتی ہے

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد ( این این آئی)قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے کل غیر منتخب شخص کو بجٹ پیش کرنے کی اجازات دے کر نواز شریف کی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانیہ کو مسترد کردیا،آئین کی غلط تشریخ کر کے آئین کا مذاق اُڑایا گیا،342

کے ایوان میں ایک بھی شخص نہ ملا جو بجٹ پیش کرتا۔ ہفتہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےاپوزیشن لیڈر نے کہا کہ 342 کے منتخب ایوان کو بائی پاس کر کے ایک غیر منتخب شخص کے ذریعے ایوان کا استحقاق مجروح کیا گیا، اس پر تحریک استحقاق بنتا ہے،حکومت نے بجٹ تو پیش کردی ہے مگر اس کو پاس کرا نا آسان نہیں، آئین کے آرٹیکل91 کے مطابق جس شخص کو وزیر مقرر کیا جاتا ہے اس کو چھ ماہ میں منتخب ہو کر ایوان کا حصہ بننا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چارماہ سے زیادہ کا بجٹ پیش نہیں کرسکتی،موجودہ بجٹ صرف الیکشن بجٹ ہے، اس سے آنے والی حکومت کیلئے مشکلات گی، انہوں نے سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ صحافی کے سوال کہ ’’پیپلز پارٹی ایوان کی بالادستی پر یقین رکھتی پھر بھی عدالتی سے نوٹس لینے کی بات کرتی ہے ‘‘ کے جواب میں سید خورشید شاہ نے کہ ہم ایوان کی بالا دستی ایوان کے اندر تسلیم کرتے ہیں، ایوان کے باہر کے لوگوں کی بالادستی تسلیم نہیں،غیر منتخب شخص کو آئین کی جس آرٹیکل کے تحت وزیر بنایا گیا اس کی تشریخ پارلیمنٹ نہیں عدالت کرسکتی ہے۔قبل ازیں سید خورشید شاہ نے پروین شاکر ٹرسٹ کے زیر اہتمام نامور شعراء کو خراج تحسین پیش کرنے کی تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے شمع جلا کر شعراء کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…