جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

’’چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کیلئے 24ملین روپے کی گاڑی تیار‘‘ چیف جسٹس ثاقب نثار کا اظہار برہمی، مجھے پہلے اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے، کس کس کے پاس سرکاری لینڈ کروزر ہے؟ ججز اور سرکاری افسروں کی تفصیلات طلب

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ججوں سمیت سرکاری افسروں کی لگژری گاڑیوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اہل نہیں تھے تو انہوں نے لینڈ کروزر کیوں لی؟ اگر ان کو گاڑی دے دی گئی تو سب لیں گے، اگر میں نے اپنے ادارے کو صاف نہ کیا تو دوسروں کے متعلق کیسے اقدامات اٹھا سکتا ہوں؟چیف جسٹس کے ریمارکس۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف

پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے لیے 24 ملین روپے کی گاڑی اور اس کی بلٹ پروفنگ کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس لاہور ہائیکورٹ اہل نہیں تھے تو انہوں نے لینڈ کروزر کیوں لی؟ اگر ان کو گاڑی دے دی گئی تو سب لیں گے، اگر میں نے اپنے ادارے کو صاف نہ کیا تو دوسروں کے متعلق کیسے اقدامات اٹھا سکتا ہوں؟وہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ججوں سمیت سرکاری افسروں کی لگژری گاڑیوں کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کر رہے تھے۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے چیف سیکرٹری پنجاب سے استفسار کیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے لیے بھی گاڑی لے لی جس پر چیف سیکرٹری نے بتایا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے لیے 24 ملین روپے کی گاڑی لی ہے جس کی بلٹ پروفنگ جاری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے تو مجھے اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے۔ اگر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اہل نہیں تھے تو انہوں نے لینڈ کروزر کیوں لی؟ اگر ان کو گاڑی دے دی گئی تو سب لیں گے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سرکاری ملازمین کو گاڑیاں دینے کا فیصلہ کون کرتا ہے، چیف سیکریٹری نے بتایاکہ مختلف اداروں کے پاس لگژری گاڑیاں موجود ہیں، سرکاری افسران کو گاڑیاں دینے کا فیصلہ متعلقہ بورڈ کرتا ہے، ہائیکورٹ کے 2 سے 3 ججوں کو بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی ہیں،

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی گاڑی کو بلٹ پروف بھی کروایا جا رہا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نےپاکستان بھر کے سرکاری افسران کے پاس لینڈ کروزرز گاڑیوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…