پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

(ن) لیگ کے دور حکومت میں کتنی صنعتیں بند ہوئیں؟ ترقی و خوشحالی کے دعوے کرنیوالوں کو پول کھل گیا

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی)مسلم لیگ (ن )کے دور حکومت میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ 5 سال کے دوران 1ہزار سے زائد چھوٹی صنعتیں بند ہوگئیں جس سے 50 ہزار سے زائد گھرانوں کا روزگار ختم ہوگیا۔یونین آف اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز کے صدر ذوالفقار تھاور کے مطابق نون لیگی حکومت کا دور چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے پرآشوب رہا ۔

روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے چھوٹی صنعتوں کی لاگت میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا، مہنگی بجلی اور گیس نے ایس ایم ایز سیکٹر کے مسائل بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ذوالفقار تھاور نے کہا کہ بلند پیداواری لاگت کی وجہ سے ایس ایم ایز کی مسابقت کی صلاحیت مزید کم ہوگئی، وفاقی وزارت خزانہ 5 سال کے عرصے کے دوران معطل رہی، روپے کی قدر میں آفیشل کمی کے پہلے مرحلے میں وفاقی وزارت خزانہ نے دعوی کیاکہ روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں کی جائے گی جو غلط ثابت ہوئی، روپے کی قدر کم ہونے سے خام مال کی قیمت مزید بڑھ گئی۔انہوں نے کہا کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے اگرچہ سرمایہ میسر تھا تاہم چھوٹی صنعتوں کے لیے سرمائے تک رسائی کو آسان نہیں بنایا جا سکا، دوسری جانب چھوٹی صنعتوں کیلیے قرضوں پر شرح سود بھی زائد رہی ، افراط زر کی شرح میں اضافے اور بجلی گیس کا بحران بھی قابو سے باہر رہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سستی چینی مصنوعات کی یلغار کے روکنے میں بھی بری طرح ناکام رہی جس سے چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں براہ راست متاثرہوئیں، غیرملکی مصنوعات کی درآمدات کو محدود کرنے کے بجائے خام مال کی امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی جس نے چھوٹی صنعتوں کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا، چھوٹی صنعتوں کیلیے تجارت اور برآمدات کے قومی پلیٹ فارمز تک رسائی بدستور بند رہی، ادارہ فروغ برآمدات کی تمام تر توجہ بڑی صنعتوں کو سہولتوں کی فراہمی پر مرکوز رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…