پیر‬‮ ، 02 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نہ ممبر قومی اسمبلی ہیں اور نہ ہی سینیٹ ،پھر بجٹ کیسے پیش کردیا؟حیرت انگیز انکشاف،تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کاشدید احتجاج

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل سے بجٹ پیش کرانے پر بجٹ اجلاس سے احتجاجا واک آؤٹ کیا جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے بجٹ پیش کرانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے شخص سے بجٹ پیش کروایا جارہا ہے جو نہ قومی اسمبلی کا ممبر ہے نہ سینیٹ کا ممبر ہے،

حکومت سے غیر منتخب شخص سے بجٹ پیش کروانے کی امید نہیں تھی ،حکومت بجٹ پیش کر کے آنیوالی حکومت کا حق چھین رہی ہے، نواز شریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو ہے، بجٹ پیش کر کے حکومت ووٹ کی عزت برباد کررہی ہے، پارلیمنٹ کا دوسری بار مدت پوری کرنا خوش آئند ہے۔جمعہ کو اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت کی مدت 30 مئی کو ختم ہوگی۔ 30 مئی کے بعد نگران حکومت آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجٹ پیش کر کے آنیوالی حکومت کا حق چھین رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو حق نہیں کہ آنیوالی حکومت کا بجٹ پیش کرے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا دوسری بار مدت پوری کرنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا بیانیہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو مگر آج حکومت ووٹ کی عزت کو برباد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس منتخب وزیر رانا افضل موجود ہیں ان کو بجٹ پیش نہیں کرنے دیا گیا۔ پارلیمنٹ کے ساتھ بہت زیادتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بار بار کہتا ہوں کہ پارلیمنٹ کو عزت دو ، پارلیمنٹ نے فیصلے کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر پارلیمنٹ کے باہر فیصلہ کیا جارہا ہے۔ پہلی بار غیر منتخب شخص کے ذریعے پارلیمنٹ کا بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ آپ میاں محمدنواز شریف کیساتھ وفاداری کریں مگر بجٹ رانا محمد افضل کو پیش کرنے دیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ آج ووٹ کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے۔ غیر منتخب شخص سے پارلیمنٹ کا بجٹ پیش کروایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا موجودہ حکومت کوایک منتخب ممبر نہیں ملا جو بجٹ پیش کرے، اس شخص سے بجٹ پیش کروایا جارہا ہے جو نہ قومی اسمبلی کا ممبر ہے نہ سینیٹ کا ممبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم بھی منتخب ہیں وہ بھی بجٹ پیش کرسکتے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ میاں صاحب کو بار بار کہتا رہا کہ پارلیمنٹ کی عزت کریں ، حکومت سے یہ امید نہیں تھی کہ غیر منتخب شخص سے بجٹ پیش کروایا جائے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ بجٹ پیش کرنے والا شخص بہت قابل ہوگا مگر وہ غیر منتخب ہے۔تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی مفتاح اسماعیل سے بجٹ پیش کروائے جانے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا روایات قائم کی جا رہی ہے،

پاکستان کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے شخص سے بجٹ پیش کروایا جا رہا ہے جو نا ہی ممبر قومی اسمبلی اور نا ہی سینیٹ کا رکن ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک غیر منتخب شخصیت سے بجٹ پیش کروا کے نئی تاریخ رقم کروائی جا رہی ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک ماہ کی مہمان حکومت کا پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا جواز نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت کے ساتھ وفاقیت کی بات کرنا چاہوں گا، ایک ایسا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے جس کی نیشنل اکانومک کونسل نے منظوری نہیں دی، چار میں سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا لیکن اس کے باوجود بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی گئی۔بعد ازاں اجلاس سے خطاب کے دوران اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اجلاس سے واک آؤٹ کا اعلان کیا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Mind The Gape


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…