جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور،سسرالیوں کے ہاتھوں پیٹرول چھڑک کر جلائی جانے والی خاتون دم توڑ گئی،مقتولہ فوزیہ کے آخری بیان میں لرزہ خیز انکشافات

datetime 25  اپریل‬‮  2018 |

لاہور  (مانیٹرنگ ڈیسک) شاہدرہ کے علاقے مجید پارک میں سسرالیوں کے ہاتھوں پیٹرول چھڑک کر جلائی جانے والی خاتون میو ہسپتال میں دم توڑ گئی،پولیس نے مقتولہ فوزیہ کے بیان پر اسکی ساس ،جیٹھانی اور دیوروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا لیکن تمام ملزمان گھر کو تالا لگا کر فرار ہوگئے،پولیس نے ملزموں کے ایک رشتہ دار کو حراست میں لے لیا،

وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی ۔بتایا گیا ہے کہ فیروز والا بیگم کوٹ شاہدرہ کے علاقے مجید پارک میں فوزیہ شوکت نامی 24سالہ خاتون کو گزشتہ روز ان کے سسرالیوں نے پیٹرول چھڑک کر آگ لگادی تھی۔ فوزیہ کو گزشتہ روز شدید تشویشناک حالت میں لاہور کے میو ہسپتال لایا گیا تھا۔ آگ لگنے کے باعث فوزیہ کا 90فیصد جسم جل چکا تھا۔ ڈاکٹروں نے خاتون کو بچانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکی اور دم توڑ گئی۔ فوزیہ نے اپنے آخری بیان میں خود کو جلانے کا ذمہ دار اپنی ساس ، جیٹھانی اور دیوروں کو قرار دیا تھا۔27سالہ فوزیہ کا کہنا تھا کہ اس کی 2سال پہلے شمریز سے شادی ہوئی تھی اور کچھ عرصے بعد شوہر روزگار کے لیے بیرون ملک چلا گیا۔سسرالیوں نے اسے تنگ کیا تو وہ میکے چلی گئی، لیکن 2روز قبل اس کے خاوند نے فون پر کہا کہ سسرال جا اور اپنی ساس سے معافی مانگ کر وہاں رہو۔خاتون کے مطابق وہ اپنے سسرال گئی جہاں مبینہ طور پر اس کی ساس، جیٹھانی اور دیوروں نے تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔تھانہ شاہدرہ پولیس نے فوزیہ کے بیان پر اس کے جیٹھ اکرام ،جاوید، سحر اور ساس کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لئے چھاپے بھی مارے، لیکن تمام ملزمان گھر کو تالا لگا کر فرار ہوگئے۔ تاہم پولیس نے ملزموں کے ایک رشتہ دار عارف کو حراست میں لے لیا۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب پولیس سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…