اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکپتن کے نواحی گاﺅں 20 ایس میں دلہا نے نئی نویلی دلہن پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے، تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے نازک حصوں پر سگریٹ داغتا رہا، مظلوم خاندان نے پریس کانفرنس کے دوران دولہا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ایک قومی روزنامے کے مطابق گڑھا موڑ کے ضلع وہاڑی کے رہائشی اللہ دتہ نے اپنی بیٹی سمیرا بتول کی شادی پاکپتن کے گاﺅں 20 ایس پی میں اپنے قریبی رشتہ دار فضل محمد کے
بیٹے محمد سلیم سے 9 مارچ 2018ءکو کی تھی، لیکن پہلے دن سے ہی دلہا محمد سلیم نے نئی نویلی دلہن سمیرا بتول پر تشدد شروع کردیا تھا۔ دلہن سمیرا بتول نے روتے ہوئے بتایا کہ محمد سلیم شادی سے ناخوش تھا، اس بنا پر اس نے آتے ہی دلہن پر تشدد کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ روزانہ چیختی چلاتی تھی لیکن سسرال والوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی تھی۔محمد سلیم کمرے کا دروازہ بند کرکے اسے بری طرح پیٹتا تھا، حتیٰ کہ کہ سگریٹ سے جسم کے مختلف حصوں پر داغتا تھا، دلہن نے متعدد بار اپنے سسر فضل محمد، جیٹھانی فرزانہ، دیور رضا کو رو رو کر فریاد کی لیکن سسرالیوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ حتیٰ کہ وہ دو بار اپنے میکے بھی گئی لیکن اس نے اپنی زبان بند رکھی لیکن اب جب اس کے خاوند محمد سلیم کی طرف سے ظلم کی انتہا ہوگئی تو دلہن نے اپنے والدین اور قریبی عزیزوں کو بلایا اور سسرالوں کے ظلم سے آگاہ کیا تو وہ اپنی فریاد لے کر میڈیا کے پاس پہنچ گئے ۔اس موقع پر سمیرا بتول کے والد اللہ دتہ اور والدہ نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، آئی جی پنجاب سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔