جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

4 ہزار پاکستانیوں کو غیر ممالک کے حوالے کرنے کے دعوے ،حقیقت کچھ اور ہی نکلی،معروف اخبار کی جھوٹی خبر کوبنیاد بناکرکیا سازش کی جارہی ہے؟ لاپتہ افراد کمیشن کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) لاپتہ افراد کمیشن نے کہا ہے کہ چار ہزار پاکستانیوں کو غیر ملکی ممالک کے حوالے کرنے کا تاثر بالکل ہے، نووارد ، طالع آزما سیاستدان پختون عوام کی معصویت کا ناجائز فائدہ اٹھانا، لاپتہ افراد کے انسانی المیہ کو سیاست کی بھیٹ چڑھانا چاہتے ہیں۔ منگل کو لاپتہ افراد کمیشن کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چار ہزار پاکستانیوں کو غیر ملکی ممالک کے حوالے کرنے کا تاثر بالکل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ نووارد اور طالع آزما سیاستدان پختون عوام کی

معصومیت سےناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور لاپتہ افراد کے انسانی المیہ کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا چاہتے ہیں۔ چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن نے جن اعداد و شمار کا حوالہ دیا تھا وہ ایک انگریزی قومی روزنامے ’دی نیوز‘ میں 18 اپریل 2007ء کو شائع ہوئے تھے۔ لاپتہ افراد کے کمیشن نے مذکورہ خبر کی تصحیح کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ خبر بے بنیاد ہے اس سے سادہ لوح اور معصوم عوام کو نہیں بہکایا جا سکتا جن کی اپنے پیارے وطن پاکستان سے وابستگی پتھر پر لیکر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…