جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

عطا ء الحق قاسمی کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی اخراجات کی آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش ،کتنے کروڑ روپے کے اخراجات آئے ،حیرت انگیز انکشافات

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)عطا ء الحق قاسمی کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی اخراجات کی آڈٹ رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی گئی جس میں پتہ چلا کہ ان پر 20 کروڑ روپے کے اخراجات آئے۔ منگل کو چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کی سماعت کی۔ عدالت میں ایم ڈی پی ٹی وی کے اخراجات کی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی رپورٹ پیش کی گئی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ پی ٹی وی کے چیئرمین کو تنخواہ نہیں ملتی، سابق چیئرمین عطاء الحق قاسمی کی اہلیت ایک گاڑی کی تھی،

لیکن انہیں پروٹوکول کے ساتھ ایک سے زائد گاڑیاں ملیں۔آڈٹ حکام کے مطابق عطاء الحق قاسمی نے اسلام آباد کلب کی ممبرشپ بھی حاصل کی جس کے اخراجات پندرہ لاکھ روپے تھے، یہ تمام اخراجات پی ٹی وی نے برداشت کیے ہیں، عطاء الحق قاسمی نے 23 لاکھ روپے کے تفریحی اخراجات بھی کیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عطاء الحق قاسمی کی تقرری قانونی تھی یا غیر قانونی یہ تعین عدالت کریگی لیکن 15 لاکھ میں اسلام آباد کلب کی ممبر شپ کیسے دی گئی؟ کیا ایسی رکنیت دی جا سکتی ہے، گیسٹ ہاؤس کا بل تک 20 لاکھ روپے کا ہے۔عدالت نے آڈٹ رپورٹ عطاء الحق قاسمی کی وکیل عائشہ حامد کو دیتے ہوئے کہا کہ 2 ہفتوں میں رپورٹ پر اعتراضات دے دیں، رپورٹ پرویز رشید کو بھی دی جائے، ممکن ہے عطاء الحق کی تقرری کے ذمہ داران کو یہ تمام پیسے ادا کرنا پڑیں۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ عطاء الحق قاسمی پر کل کتنے اخراجات آئے۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ عطاء الحق قاسمی پر 20 کروڑ روپے کے اخراجات آئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے اعلیٰ سطح کے لوگوں کو یہ رقم ادا کرنا پڑے۔دوران سماعت پی ٹی وی کی ملازمہ نے درخواست کی کہ پی ٹی وی ملازمین کے معاملے پر بھی ازخود نوٹس لیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے ازخود نوٹس لینا بند کردئیے ہیں، آخری از خود نوٹس آپ کی درخواست پر لے لوں؟ کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…