اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

بے نظیر کے قتل میں اب کا سب سے بڑا دھماکہ خیز انکشاف مرحومہ کو قتل تو دہشت گردوں نے کیا لیکن پیچھے وجہ کیا نکلی ؟

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف کالم نگار رئوف کلاسر ا نے ایک پروگرام میں انکشاف کیا ہے کہ جب بے نظیر کا قتل ہوا تو اس وقت رحمان ملک ان کے سیکیورتی معاملات دیکھ رہے تھے ۔ رحمان ملک نے اس وقت کے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کو خط لکھا تھا جس میں جیمزاور کیمرز کا مطالبہ کیا تھا ۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ حالانکہ کے ان کے پاس اربوں کی دولت ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی جیب سے

جیمرز نہیں لیے اور بے نظیر کو قتل کر وا دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل(ر)مشرف نے بھی بے نظیر کی سیکیورٹی کیلئے جیمرز دینے سے صاف انکار کر دیا تھا ۔ انہوں نے اپنے جاں نثار اکٹھے کر لیے تھے اور کہا کہ آپ اپنے جیالے اکٹھے کر لیں ۔ یہ ہمارے سیکیورٹی پر معمور ہوںگے ۔ رئوف کلاسرا نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے آخری چیف سیکیورٹی آفیسر خالد لطیف نے بے نظیر بھٹو کے قتل ہونے پر کہا کہ یہ دیکھیں کہ تین سیکیورٹی گارڑکارنرز ہوتے ہیں اور ان کی غفلت کی وجہ سے قاتل ان تک جا پہنچا وہ جاں نثار تھے جان دے تو سکتے تھے لیکن بچا نہیں سکتے تھے ۔ پیپلز پارٹی نے بینظیر قتل کرا دی لیکن نہ انہوں نے پروفیشنل سیکیورٹی گارڈز رکھے اور نہ ہی گاڑی کیلئے جیمرز خریدنا گوارا کیا ۔ قاتل آیا گولی ماری اور چلا گیا ۔ قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا تھا کہ وقت بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش بے نقاب کرے گا ، بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری ریاست کے تمام عناصر پر عائد ہوتی ہے ، قتل کے ذمہ دار پانچوں ملزمان کی بریت سے دہشت گردوں کو فتح کا تاثر ابھرا۔ ہماری حکومت کے دور میں کی گئی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ گرفتار کئے گئے پانچوں ملزمان کا تعلق القاعدہ اور طالبان سے تھا ، دہشت گردبے نظیر بھٹو کے خون کے پیاسے تھے ۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل ایک گھمبیر سازش تھی ، شاید اس سازش سے کبھی بھی پردہ نہ اٹھ سکے لیکن ہماری امید ہے کہ وقت ایک نہ ایک دن ضرور اس سے پردہ اٹھائے گا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس سارے مقدمے میں پیپلزپارٹی کو درخواست دینے کے باوجد عدالت نے فریق نہیں بنایا تھا ، فیصلے سے دہشت گردوں کی جیت کا تاثر ابھرا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی پر مناسب سیکیورٹی دینے سے انکار کردیا تھا ۔ پولیس افسر کو جائے وقوعہ دھونے کا حکم اعلیٰ حکام نے دیا تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان پیپلزپارٹی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے دور

حکومت میں کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تجی کہ خود کش حملہ آور ناصر شاہ ان پانچوں ملزمان کے پاس حملے سے قبل ٹھہرا تھا جنہیں اب عدالت نے بری کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی عدالت کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہی ہے ۔ پیپلزپارٹی قانونی جنگ جاری رکھے گی ، انسداد دہشت گردی عدالت نے گرفتار پانچوں ملزمان کی بریت کے فیصلے کو قابل افسوس قراردیتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ فیصلے کے وقت پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کو عدالت میں موجود ہونا چاہیے تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…