جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اس وقت تک تنخواہ نہیں لوں گا جب تک ۔۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے تاریخ رقم کر دی، منصف ہونے کا حق ادا کر دیا

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جب تک پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ملازمین کو تنخواہیں نہیں مل جاتیں اس وقت تک اپنی تنخواہ بھی نہیں لونگا،ایڈیشنل رجسٹرار صاحب یہ حکم ہے، میرے اکا ؤ نٹ میں چیک ڈیپازٹ نہیں کرانا،جب تک ملک بھر کے پی ڈبلیو ڈی ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں میرے اکا ؤ نٹ میں چیک نہیں آنا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ(پی ڈبلیو ڈی) ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنی تنخواہ لینے سے بھی انکار کر دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک باقی سرکاری ملازمین کو تنخوا ہ نہیں ملے گی مجھے بھی تنخواہ نہ دی جائے، یہ عام ہو چکا ہے کہ سرکاری ملازمین کو یکم کو تنخواہ نہیں ملتی۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ریاست کے تمام ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی تک چیف جسٹس کو تنخواہ نہ دی جائے، چیف جسٹس نے ایڈیشنل رجسٹرار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ایڈیشنل رجسٹرار صاحب یہ حکم ہے، میرے اکا ؤ نٹ میں چیک ڈیپازٹ نہیں کرانا۔ ملازمین کو ادائیگی کی تصدیق کے بعد میرا چیک میرے اسٹاف کو دیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں جیو ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملے کی سماعت ہوئی، سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ میر شکیل الرحمن بتائیں کہ تنخواہیں کیوں ادا نہیں ہوئیں؟ مالک کو کفالت کا حق ادا کرنا ہے، چیف جسٹس نے حامد میر سے کہا کہ آپ بھی کہہ رہے ہیں تنخواہ نہیں مل رہی، تنخواہ نہ ملی تو حامد میر کی مرسڈیز گاڑی کیسے چلے گی؟اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگ مجھے

ابھی تک سمجھ ہی نہیں پائے، میرے خلاف شکایت کرنا ہے تو کریں۔واضح رہے کہ بدھ 4اپریل کو سپریم کورٹ میں میڈیا ہاؤسز میں تنخواہوں کی ادائیگی میں تا خیر سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جیونیوز کو 30 اپریل تک ملازمین کے تمام واجبات ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاتھا کہ ملازمین کسی بھی ادارے میں ریڑھ کی ہڈی

جیسی حیثیت ہوتی ہے اور ملازمین کے بل بوتے پر ہی آپ کے چینل چل رہے ہیں، بھیک مانگیں یا قر ض لیں، واجبات فوری اداکریں، ایک چینل نے تو پراپرٹی بیچ کر تنخواہیں ادا کیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہیں دے کر سرٹیفکیٹ بھی عدالت میں جمع کرائیں جب کہ اتوار کو بھی سماعت کرنا پڑی تو کریں گے کیوں کہ مسئلے کا حل چاہیے۔واضح رہے کہ میڈیا ہائوسز میں تنخواہوں کی ادائیگی کے

حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران حامد میر نے چیف جسٹس سے شکایت کی تھی کہ جیو نیوز میں تین ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی بند ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…