جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ڈی جی پی آر آفس میں ہنگامہ آرائی،خواتین افسروں سے ہاتھاپائی اور گالم گلوچ،کروڑوں روپے کی رقم کی خرد برد، ترجمان محکمہ تعلقات عامہ پنجاب کا موقف سامنے آگیا

datetime 23  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی ) ترجمان محکمہ تعلقات عامہ پنجاب نے کہا ہے کہ چند غنڈہ عناصر کے ہاتھوں ڈی جی پی آر آفس کو یرغمال نہیں بننے دیں گے۔دفتری املاک کو نقصان اور افسران سے بدسلوکی کسی صورت قابل قبول نہیں ۔ کلرک یونین کے افسران پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔یونین کے لوگ دفتر کے ملازمین سے غلط بیانی کرکے انہیں گمراہ کررہے ہیں ۔یونین عہدیداروں نے لیڈی افسران کو گھسیٹ کر کمرے سے باہر نکالاجس سے انہیں زخم بھی آئے۔یونین عہدیداروں نے ملتان

اور راولپنڈی سے آئی لیڈی افسران کی سرکاری گاڑی پر حملہ کرکے ونڈ سکرین توڑ دی اور لیڈی افسران کو حراساں کرنے کے مرتکب ہوئے ۔ یونین عہدیداروں کی خواتین افسران سے ہاتھا پائی اور گالم گلوچ مذموم حرکت ہے ۔یونین صدر ملازمین کی ٹرانسفر، پوسٹنگ اور پروموشن کے معاملات اپنی مرضی کے مطابق کرانا چاہتا ہے ۔ غنڈہ گردی اور لیڈی افسران کی توہین کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔اپنے ایک بیان میں ترجمان ڈی جی پی آر نے کہا کہ22 ملازمین کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اورہنگامہ آرائی پر معطل کیا گیااورامن پسند اور کام کرنے والے ملازمین کے ڈی جی پی آرآفس میں داخلے پر کوئی پابندی نہیں۔ملازمین اورقیمتی ریکارڈکی حفاظت کیلئے دفتر میں فول پروف سکیورٹی موجود ہے ۔ترجمان نے کہا کہ بیرونی عناصراورشرپسندوں کو ڈی جی پی آر آفس میں داخل نہیں ہونے دیا جا ئے گا۔ یہ فیصلہ قیمتی سرکاری ریکارڈ اور افسران کی حفاظت اوردھمکیوں کی وجہ سے کیا گیا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ یونین کے صدر تصور چوہدری کازخم خودساختہ ہے اور یہ بات پولیس انکوائری میں بھی ثابت ہو چکی ہے کہ کلرک یونین کے صدر نے خود اپنے سر پر بلیڈ مار کر حملے کا ڈرامہ کیا۔حقیقت یہ ہے کہ یونین صدر تصور چوہدری مجرمانہ پس منظر کاحامل ہے اس نے ڈرا دھمکا کر یونین کے نام پر ملازمین کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ

کلرک یونین نے مزاربابا غیب شاہ کی کروڑوں روپے کی رقم خردبرد کی ہے اورمزار کی آمدن کے گذشتہ 10سال کے حساب سے بچنے کیلئے یونین عہدیدار غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں اور ڈرامہ کر رہے ہیں۔ یونین صدر اپنے بہنوئی ارشد ڈرائیورکی نوکری میں غیر قانونی توسیع نہ ہونے پر منفی ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے جبکہ انتظامیہ نے میرٹ اورقواعدسے ہٹ کر کوئی بھی کام کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ہنگامہ آرائی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ انکوائری کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔ ترجمان نے تمام ملازمین کو اپنی ڈیوٹی پر حاضر رہنے اور کسی بھی قسم کی تخریبی کارروائیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…