جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

خود بات کرتے ہیں تو دوسرے کا جواب سننے کی بھی ہمت ہونی چاہیے ، اتنی پابندیاں مارشل لاء میں بھی نہیں لگیں ٗ نوازشریف نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 23  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس اپنی بات سنا دیتے ہیں ٗ کوئی اور بولے تو پابندی لگا دیتے ہیں ٗ مارشل لاء میں بھی اتنی پابندیاں نہیں لگیں جتنی اب لگ رہی ہیں ٗ اگر چیف جسٹس خود بات کرتے ہیں تو دوسرے کا جواب سننے کی بھی ہمت ہونی چاہیے ٗسینٹ انتخابات کے حوالے سے سراج الحق کی بات بہت معنی خیز ہے ٗعمران خان ارکان اسمبلی کی تو سرزنش کر رہے ہیں ٗاپنی سرزنش بھی کریں

کہ کس کے کہنے پر سینیٹ میں ووٹ دیئے ٗکیا چوہدری سرور کے حوالے سے بھی جواب دیں گے انہیں ووٹ کیسے ملے؟ کیا چوہدری سرور کے حوالے سے بھی جواب دیں گے انہیں ووٹ کیسے ملے؟ ٗ موجودہ پارلیمنٹ میں کوئی دم خم نہیں ٗانشاء اللہ اگلی پارلیمنٹ میں فیصلے ہوں گے ٗچیف جسٹس کسی مظلوم کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ بیس سال سے نہیں ہوا۔ پیر کو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز لندن میں اہلیہ کلثوم نواز کی عیادت کے بعد وطن واپس پہنچے اور دونوں نیب ریفرنس کی سماعت کیلئے احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش ہوئے۔ عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہاکہ سینٹ انتخابات کے حوالے سے سراج الحق کی بات بہت معنی خیز ہے، امیر جماعت اسلامی نے بھی بولا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک نے ان سے کہا تھا کہ اوپر سے حکم آیا تھا اس پر سینیٹ میں ووٹ دیئے گئے، عمران خان اپنے ارکان اسمبلی کی تو سرزنش کر رہے ہیں ٗوہ اپنی سرزنش بھی تو کریں کہ کس کے کہنے پر سینیٹ میں ووٹ دیئے۔نواز شریف نے کہا کہ کیا عمران خان قوم کو بتائیں گے کہ انہوں نے تیر کو ووٹ نہیں دیا ٗ کیا یہ لوگ تبدیلی لائیں گے جو بے اصولی کی سیاست کر رہے ہیں، کیا چوہدری سرور کے حوالے سے بھی جواب دیں گے انہیں ووٹ کیسے ملے؟، سینٹ کے انتخابات میں

صرف (ن )لیگ اور اس کے اتحادیوں نے شفاف طریقے سے ووٹ دیا۔ نواز شریف نے لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جلسے کو ناکام بنانے کیلئے جلسہ گاہ میں سیوریج کا پانی چھوڑنے کے بارے میں کہا کہ منظور پشتین کے جلسے میں پانی چھوڑ دینا بہت بڑی زیادتی ہے، جلسے میں پانی چھوڑنا کہاں کا آزادی اظہار رائے ہے۔نواز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اپنی بات سنا دیتے ہیں لیکن کوئی اور بولتا ہے تو پابندیاں لگا دیتے ہیں، اگر خود بات کرتے ہیں

تو دوسرے کا جواب سننے کی بھی ہمت ہونی چاہیے۔کلثوم نواز کی طبیعت پہلے سے بہتر ،قوم سے دعاؤں کی اپیل ہے ٗ ہم تو بس گئے اور جا کر واپس آ گئے ٗاتنی پابندیاں مارشل لاء میں نہیں لگائی گئیں جو اب دیکھنے میں آرہی ہیں ٗ آئے روز ایسے فیصلے دئیے جاتے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں، بائیس کروڑ عوام کی زبان بندی کسی طور قبول نہیں، یہ صورتحال پاکستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اس کیس میں مجھے سزا دلوانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے ٗ

اس لیے بھی سزا دلوانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پانچ ججز کو سرخرو کیا جاسکے ٗموجودہ پارلیمنٹ میں کوئی دم خم نہیں ٗانشاء اللہ اگلی پارلیمنٹ میں فیصلے ہوں گے، چیف جسٹس روز ہسپتال میں جاتے ہیں اور سبزیوں کے نرخوں کی بات کرتے ہیں ٗیہ آپ کا کام نہیں کہ وزیراعلیٰ کو طلب کرلیں اور حکومت کو لائن میں کھڑا کردیں، دنیا میں کہیں عدلیہ ایسے نہیں کرتی۔نواز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس کسی مظلوم کے گھر بھی جائیں جس کے مقدمے کا فیصلہ بیس سال سے نہیں ہوا، ماتحت عدالتوں میں بھی جائیں

جو آپ کا بنیادی کام ہے، عدلیہ کے حالیہ تین فیصلے جسٹس منیر کے فیصلے سے بھی بدترین ہیں ٗمیں عدالت میں بیٹھا ہوتا ہوں اور باہر آوازیں لگائی جاتی ہیں ‘‘سرکار بنام میاں نوازشریف وغیرہ‘‘۔ نوازشریف نے کہاکہ ہم نے ملک کی خدمت کی ٗملک کو ایٹمی قوت بنایا اور سی پیک دیا ٗکراچی سے دہشت گردی ختم کردی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان بھی کہتا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ درست نہیں ہے میں نے شہباز شریف سے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا اور کراچی کے دورے کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…