جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں اگر 50ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیداہو تو سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو گی،ایسی وجہ سامنے آگئی کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

datetime 23  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد( این این آئی) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مجھے صرف اللہ آرڈر دے سکتا ہے، پارٹی ڈکٹیشن صرف عمران خان سے لیتا ہوں،سینیٹ انتخابات میں (ن )لیگ اور پی پی پی کا سامنا تھا،سراج الحق سے کہا ان کو سپورٹ کرنا ہے ،چھوٹے صوبوں کو آگے لانے کیلئے چیئرمین بلوچستان اور ڈپٹی چیئرمین فاٹا کو دینے کا فیصلہ ہوا،بلوچستان کے ارکان اپنا حق لینے میں کامیاب ہوئے مگر فاٹا کے ارکان میں آخری وقت میں پیچھے ہٹ گئے۔ پیر کو اسلام آباد میں خیبر پختونخوا حکومت

اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے ہزارہ ریجن میں 300 میگاواٹ بجلی کے منصوبے کے معاہدے کے بعدپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سراج الحق کو صرف عمران خان کی بات پہنچائی، بنی گالہ اونچی جگہ پر ہونے کی وجہ سے اوپر کا لفظ استعمال کیا جس کا غلط مطلب لیا گیا،کس کی کارکردگی بہتر ہے اور کس کی خراب، یہ فیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں،ملک میں اگر پچاس ہزار میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہو جائے تو سندھ ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہو گی، ان صوبوں کا سسٹم ہی اپ گریڈنہیں،حکومت جان بوجھ کر ان صوبوں کا سسٹم اپ گریڈ نہیں کررہا،سی پیک کے تحت سارے منصوبے پنجاب کیلئے ہیں باقی صوبوں کیلئے کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گرانے کی پلان کے بارے میں کوئی فکر نہیں، ہمارا بھی پلان تیار ہیں، آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنانئی حکومت کا حق ہے، صوبائی حکومت بجٹ پیش نہیں کریگی،آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں، ملک سے پیسہ چوری کر کے آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی ہیں۔ وزیراعلیٰ کے پی کے نے کہا کہ یہ منصوبہ موجودہ حکومت کے دور کا سب سے بڑا بجلی کا منصوبہ ہے،یہ منصوبہ ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہ کرنے کا طعنہ دینے والوں کیلئے واضح جواب ہے، یہ ماحول دوست منصوبہ ہے،وفاقی حکومت اسطرح کے منصوبوں کی بجائے فرنس آئل سے

بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے،جو کہ مہنگاہونے کیساتھ ساتھ آلودگی کا باعث بھی ہے،پختونخوا حکومت نے جتنے بھی قرضے لیے ہیں سب ادا کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کو پیدا کردہ بجلی نیشنل گرد میں شامل کرنے کیلئے بار بار التجا کررہی ہے مگر حکومت معاہد ہ کرنے سے کترارہی ہے،وفاقی حکومت معاہدے کے بغیر نیشنل گرڈ میں

خیبر پختوا کی بجلی استعمال کررہی ہے،وفاقی حکومت نے بجلی تو استعمال کی مگر صوبائی حصہ کے ڈیڑھ ارب روپے اب تک ادا نہیں کئے۔ ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ جب وفاق سے جب بھی صوبائی بجلی کو نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کی بات کرتے ہیں وہ بجلی کی ضرورت نہ ہونے کا دعویٰ کر کے انکار کرتا ہے، ہمیں وقتی فیصلوں کی بجائے آئندہ آنیوالی نسلوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…