جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

7سال کی بچی سکول جاتے ہوئے اغوا، پورے ضلع کی پولیس نے ملکر بچی کی تلاش شروع کی تو ایسی جگہ سے مل گئی کہ کسی کو بھی یقین نہ آئے، ایسی انوکھی واردات کے پولیس والے بھی ہل کر رہ گئے

datetime 22  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وہاڑی کے تھانہ ٹھینگی کے علاقے سے اغوا ہونے والی بچی کو پولیس نے 8گھنٹوں میں ہی بازیاب کرالیا ، پولیس کے مطابق بچی کے ورثا نے مخالفین کو مقدمے میں پھنسانے کے لئے اغوا کا ڈرامہ رچایا۔ایس پی انوسٹی گیشن وہاڑی زبیدہ پروین نے ڈی ایس پی غلام مصطفی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران سنسنی خیز واردات سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا

کہ پولیس کو چک نمبر 46 ڈبلیو بی کے رہائشی محمد اعجاز نے اطلاع دی کہ اس کی بھتیجی کشور یوسف جس کی عمر 7سال ہے کو صبح سکول جاتے ہوئے نامعلوم افراد بسواری موٹر سائیکل اغواکر کے لے گئے۔اطلاع پر پولیس تھانہ ٹھینگی نے فوری طور پر مقدمہ نمبر 168/18بجرم 363ت پ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر سعید ملک کے نوٹس میں بات آئی تو انہوں نے فوری طورپر پولیس کی بھاری نفری ٹھینگی بھیجی جبکہ ایس پی انوسٹی گیشن زبیدہ پروین، ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم سجادمحمد خاں، ڈی ایس پی ٹریفک غلام مصطفیٰ ، سی آئی اے سٹاف اور سرکل وہاڑی اور میلسی کے ایس ایچ اوز بھی موقع پر پہنچے اور ضلع کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیے گئے۔ سرچ آپریشن کے دوران مترو کے علاقہ پُل سرگانہ سے بچی کو بازیاب کروا لیا گیاجس کو تصویر کے ذریعے شناخت کیا گیا۔مغوی بچی کشور یوسف نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ اس کے چچا اعجازنے پلاننگ کے تحت اسے اپنے رشتہ دار ظفر کے ساتھ بھیجا اور وہ مجھے اپنی بیوی کے ہمراہ میلسی سے سرگانہ لے کر جا رہا تھا کہ پولیس نے پکڑ لیا۔ مدعی مقدمہ اور بچی کے ورثا جو کہ ایف آئی آر درج کروانے کے بعدموقع سے غائب تھے کو تلاش کرلیا گیا ہے جنہو ں نے ایک منصوبہ بندی کے تحت مخالفین کو بچی کے اغوا کے مقدمہ میں پھنسانے

کے لئے اغوا کا ڈرامہ رچانے کا اعتراف کرلیا ۔ ظفر اور اس کی بیوی جن سے بچی برآمد ہوئی نے بھی اعترافی بیان میںکہا ہے کہ انہوں نے اعجاز (چچا) اور یوسف (والد) کے کہنے پر بچی کو اغوا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…