جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

7سال کی بچی سکول جاتے ہوئے اغوا، پورے ضلع کی پولیس نے ملکر بچی کی تلاش شروع کی تو ایسی جگہ سے مل گئی کہ کسی کو بھی یقین نہ آئے، ایسی انوکھی واردات کے پولیس والے بھی ہل کر رہ گئے

datetime 22  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وہاڑی کے تھانہ ٹھینگی کے علاقے سے اغوا ہونے والی بچی کو پولیس نے 8گھنٹوں میں ہی بازیاب کرالیا ، پولیس کے مطابق بچی کے ورثا نے مخالفین کو مقدمے میں پھنسانے کے لئے اغوا کا ڈرامہ رچایا۔ایس پی انوسٹی گیشن وہاڑی زبیدہ پروین نے ڈی ایس پی غلام مصطفی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران سنسنی خیز واردات سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا

کہ پولیس کو چک نمبر 46 ڈبلیو بی کے رہائشی محمد اعجاز نے اطلاع دی کہ اس کی بھتیجی کشور یوسف جس کی عمر 7سال ہے کو صبح سکول جاتے ہوئے نامعلوم افراد بسواری موٹر سائیکل اغواکر کے لے گئے۔اطلاع پر پولیس تھانہ ٹھینگی نے فوری طور پر مقدمہ نمبر 168/18بجرم 363ت پ درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمر سعید ملک کے نوٹس میں بات آئی تو انہوں نے فوری طورپر پولیس کی بھاری نفری ٹھینگی بھیجی جبکہ ایس پی انوسٹی گیشن زبیدہ پروین، ڈی ایس پی آرگنائزڈ کرائم سجادمحمد خاں، ڈی ایس پی ٹریفک غلام مصطفیٰ ، سی آئی اے سٹاف اور سرکل وہاڑی اور میلسی کے ایس ایچ اوز بھی موقع پر پہنچے اور ضلع کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیے گئے۔ سرچ آپریشن کے دوران مترو کے علاقہ پُل سرگانہ سے بچی کو بازیاب کروا لیا گیاجس کو تصویر کے ذریعے شناخت کیا گیا۔مغوی بچی کشور یوسف نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ اس کے چچا اعجازنے پلاننگ کے تحت اسے اپنے رشتہ دار ظفر کے ساتھ بھیجا اور وہ مجھے اپنی بیوی کے ہمراہ میلسی سے سرگانہ لے کر جا رہا تھا کہ پولیس نے پکڑ لیا۔ مدعی مقدمہ اور بچی کے ورثا جو کہ ایف آئی آر درج کروانے کے بعدموقع سے غائب تھے کو تلاش کرلیا گیا ہے جنہو ں نے ایک منصوبہ بندی کے تحت مخالفین کو بچی کے اغوا کے مقدمہ میں پھنسانے

کے لئے اغوا کا ڈرامہ رچانے کا اعتراف کرلیا ۔ ظفر اور اس کی بیوی جن سے بچی برآمد ہوئی نے بھی اعترافی بیان میںکہا ہے کہ انہوں نے اعجاز (چچا) اور یوسف (والد) کے کہنے پر بچی کو اغوا کیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…