جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

”ہے کوئی سائل جو مجھ سے سوال کرے اور میں یہیں کھڑے کھڑے اس کا فیصلہ کردوں “ چیف جسٹس نے تاریخ رقم کردی، ایسا اعلان کردیا کہ پوری قوم انہیں دعائیں دینے لگی

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ہے کوئی سائل جو مجھ سے سوال کرے اور میں یہیں کھڑے کھڑے اس کا فیصلہ کردوں ‘چیف جسٹس کا چارسدہ بار کی تقریب سے خطاب کے دوران ایسا اعلان کہ وہاں بیٹھے وکلا حیران رہ گئے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے چارسدہ بار کی تقریب سے خطاب کے دوران تاریخی اعلان کرتے ہوئےوہاں بیٹھے وکلا

تک حیران کر دیا ۔ چیف جسٹس نے تقریب سے خطاب کے دوران وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مانگنے کیلئےآئے ہیں ان کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں ہے، ’میں آپ سے تعاون اور محبت مانگتاہوں تاکہ عوام کو بنیادی حقوق مل سکیں کیونکہ عوام کو حقوق آپ کی مدد سے مل سکتے ہیں‘۔چیف جسٹس نے کہا کاش میرے پاس کوئی سال آئے اور کہے میرا یہ مسئلہ ہے ، میرے ساتھ جسٹس عمر عطا بندیال موجود ہیں، میں یہیں کھڑے کھڑے اس کو اس کا حق دلواؤں گا۔ انہوں نے وکلا کو مخاطب کرکے کہا ’ہے کسی کا پرابلم جو مجھے بتائے، آپ کے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے ہروقت حاضر ہوں‘۔واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار یہ اعلان کر کے پاکستان کی تاریخ کے وہ واحد چیف جسٹس بن گئے ہیں جنہوں نے جگہ پر ہی عدالت لگانے کا اعلان کیا۔ چیف جسٹس نے تقریب سے خطاب کے دوران وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مانگنے کیلئےآئے ہیں ان کے پاس دینے کیلئے کچھ نہیں ہے، ’میں آپ سے تعاون اور محبت مانگتاہوں تاکہ عوام کو بنیادی حقوق مل سکیں کیونکہ عوام کو حقوق آپ کی مدد سے مل سکتے ہیں‘۔چیف جسٹس نے کہا کاش میرے پاس کوئی سال آئے اور کہے میرا یہ مسئلہ ہے ، میرے ساتھ جسٹس عمر عطا بندیال موجود ہیں، میں یہیں کھڑے کھڑے اس کو اس کا حق دلواؤں گا۔ انہوں نے وکلا کو مخاطب کرکے کہا ’ہے کسی کا پرابلم جو

مجھے بتائے، آپ کے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے ہروقت حاضر ہوں‘۔واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار یہ اعلان کر کے پاکستان کی تاریخ کے وہ واحد چیف جسٹس بن گئے ہیں جنہوں نے جگہ پر ہی عدالت لگانے کا اعلان کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…