جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

جنسی ہراسگی کے بڑھتے واقعات، حکومت بھی متحرک، بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ حکومت سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والوں کو با عزت اور با وقار ماحول فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔کسی کو بھی ملازمین یا ساتھ کام کرنے والوں کو ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہر کسی کو صاف ستھرے اور ہرقسم کے ظلم اور امتیاز سے پاک ماحول میں عزت نفس کے ساتھ کام کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے یہ بات ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر سید مظہر علی ناصر سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر اسلام آباد چیمبر کے صدر عامر وحید، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر ملک زبیر، وفاقی چیمبر کے چئیرمین کو آردینیشن ملک سہیل اور دیگر بھی موجود تھے۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ منفی رویہ نہ صرف افراد کیلئے تباہ کن ہے بلکہ اس سے اداروں کو بھی نقصان ہوتا ہے کیونکہ ملازمین اپنے آپ کو غیر محفوظ اور زیادتی کا شکار سمجھتے ہیں جس سے انکی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔اس موقع پر کشمالہ طارق اور سید مظہر علی ناصر نے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا جس کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سیمینار کروائے جائیں گے جبکہ ایف پی سی سی آئی تمام چیمبروں اور کاروباری تنظیموں میں آگہی پھیلائے گااور کاروباری برادری اس ادارے سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ اسکے علاوہ ایف پی سی سی آئی کا ہراساں کرنے کے بارے میں جو بھی شکایت ملے گی اس پر وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کا ادارہ فوری کاروائی کرے گا۔ اس موقع پر ملک سہیل حسین نے کہا کہ متعدد نجی اور سرکاری اداروں میں ملازمین کو ہراساں کرنے کے واقعات ہو رہے ہیں مگر انھیں رپورٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تمام اداروں کو اپنے ملازمین میں منفی رویہ کے خاتمہ کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…