جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

آپ نے تو کہاتھا کہ شوگر مل ہے ہی نہیں ! سپریم کور ٹ میں شریف خاندان کا سفید جھوٹ پکڑا گیا،وکیل کو شدید شرمندگی کا سامنا

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے شریف خاندان کی اتفاق شوگر مل کی واپس منتقلی کی درخواست بحال کر دی۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے اتفاق شوگر مل کی واپس منتقلی کیخلاف شریف خاندان کی درخواست کی سماعت کی۔ شریف خاندان کی طرف سے ان کے وکیل سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہوئے اور اتفاق شوگر مل کی واپس منتقلی کی درخواست بحال کرنے کی استدعا کی۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ

ا?پ کیساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی،ہم نے تحریری حکم نامے پرابھی تک دستخط نہیں کئے۔عدالت نے درخواست خارج کرنے کاا?رڈرواپس لیتے ہوئے درخواست بحال کردی۔چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ کوتنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں تاخیرسے پیش نہ ہواکریں،اس پر شریف خاندان کے وکیل نے کہاکہ مجھے معلوم ہے، کوئی رعایت مانگ بھی نہیں رہا۔واضح رہے کہ شریف خاندان کے وکیل سلمان اکرم راجہ ا?ج عدالت میں تاخیر سے پیش ہوئے جس پر چیف جسٹس نے انہیں تنبیہہ جاری کی۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ پہلے کہاجاتارہاشوگرملیں نہیں پاور پلانٹ ہیں، اصل مقصد شوگرمل لگاناتھا، غلط بیانی پرتوہین عدالت کی کارروائی کرنی یانہیں دیکھ لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے وقاص شوگر ملز کیس کے وکیل سے مخاطب ہوکر کہا وکیل صاحب کیس کی تیاری کی ہے یانہیں؟ تیاری نہیں کی بے چارگی سے کہہ رہے ہیں، اس کے بعد چیف جسٹس نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ شریف خاندان نے اپنی 3 شوگر مل حسیب و قاص اور چودھری شوگر مل وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب منتقل کی تھیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے منتقلی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ان شوگر ملز کو 3 ماہ کے اندر واپس اسی جگہ منتقل کردیا جائے جہاں وہ پہلے لگی ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…