جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

آپ لوگوں کے پاس نہ تو مشینری ہے اور نہ ہی لیب پانی کا معیار پنجاب سے ٹیسٹ کروائیں،چیف جسٹس نے ایسا حکم دیدیا کہ خیبرپختونخواہ کے حوالے سے عمران خان کے دعوئوں کی قلعی کھل گئی

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں صاف پانی فراہمی کیس کی سماعت، آپ کے پاس نہ لیب ہے اور نہ ہی اعلی مشینری ہے ،پانی کیسے ٹیسٹ کرواتے ہیں ، چیف جسٹس نے پشاور کے پانی کے نمونے پنجاب سے ٹیسٹ کروانے کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ پشاوررجسٹری میں صاف پانی فراہمی کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے

دوران استفسار کیا کہ آپ کے پاس نہ لیب ہے اور نہ ہی اعلی مشینری ہے ،پانی کیسے ٹیسٹ کرواتے ہیں ۔انہوں نے پشاور کے پانی کے نمونے لے کر پنجاب سے ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے پانی کے نمونے پشاور کے مختلف علاقوں سے حاصل کر کے انہیں ٹیسٹ کروانے کیلئے پنجاب بھیجنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے پشاور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے دھواں دھار دورے بھی کیے۔چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کو ادھورا چھوڑ کر الرازی ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے ہسپتال،کالج میں انتظامات کا جائزہ لیا اور ساتھ مریضوں سے حال احوال بھی دریافت کیے۔اس دوران وہاں آئے مریضوں نے چیف جسٹس کے سامنے شکایات کے انبار لگا دئیے۔ پشاور کے مختلف علاقوں سے حاصل کر کے انہیں ٹیسٹ کروانے کیلئے پنجاب بھیجنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس نے پشاور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے دھواں دھار دورے بھی کیے۔چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کو ادھورا چھوڑ کر الرازی ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے ہسپتال،کالج میں انتظامات کا جائزہ لیا اور ساتھ مریضوں سے حال احوال بھی دریافت کیے۔اس دوران وہاں آئے مریضوں نے چیف جسٹس کے سامنے شکایات کے انبار لگا دئیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…