جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سزائے موت کے منتظر 2 مجرموں کو تختہ دار پر نئی زندگی مل گئی

datetime 18  اپریل‬‮  2018 |

حیدرآبادٹاؤن(آن لائن)تین سگے بہن بھائیوں کے مقدمہ قتل میں ملوث ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں سزائے موت کے منتظر 2 مجرموں کی آج 19 اپریل کو ہونے والی پھانسی ٹل گئی قاتل اور مقتولین گھرانوں کے دونوں فریقین صلح پر آمادہ دونوں مجرموں کو پھانسی دینے کا عمل تاحکم ثانی ملتوی کر دیا گیا اور پھانسی کے عمل کو مکمل کر نے کیلیے مقرر کردہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پہنچ کر اپنے بیان ریکارڈ کروا دیئے۔

جس کے بعد دو مجرموں کی پھانسی اکیس اپریل 2018تک ملتوی کر دی گئی عدالت نے ضروری کارروائی کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو 21اپریل کو دوبارہ طلب کرلیا ھے مقتول گھرانے کی ایک خاتون جسکو ذہنی طور پر دباؤ تھا اسکے میڈیکل کرنے کا حکم دے دیا ہے بتایا گیا ہے کہ سال 2005 میں تھانہ بھیرہ کی حدود میں واقع ایک گاؤں کیسو پورہ میں اراضی کے تنازع پر فائرنگ کرکے امجد اور خضر وغیرہ نے اپنے مخالفین دو بھائیوں رمضان۔اسلم اور ان کی بہن کوثر بی بی کو قتل کر دیا تھا عدالت نے مقدمہ میں دوملزمان امجداورخضرکو سزائے موت کا حکم سنایاتھاھائیکورٹ۔سپریم کورٹ سے مجرموں کی اپیلیں مسترد ہونے کے بعد صدر پاکستان کو رحم کی آخری اپیل کی گئی وہ بھی صدر پاکستان نے مسترد کردی جس کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرگودھا نے دونوں مجرموں کے بلیک وارنٹ جاری کرتے ہوئے آج 19 اپریل کو تختہ دار پر لٹکا کر پھانسی دینے کا حکم دیاتھا دونوں مجرموں کو آج ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں پھانسی پر لٹکایا جانا تھا کہ پھانسی چڑھائے جانے سے قبل ہی دونوں فریقین کے درمیان صلح کرنے کی کوشش کامیاب ہوگئی اور دونوں فریقین صلح پر آمادہ ہو گئے ذرائع کے مطابق قتل ہونے والے تین سگے بہن بھائیوں کا والد بھی اس عرصہ میں وفات پاگیا اور شرعی طور پر مقتولین کی وارث ان کی دو بہنیں خاندان میں موجود ہیں جنھوں نے عدالت میں پیش ہوکر اپنے ابتدائی بیان دیئے جس پر عدالت نے ایک خاتون کا فوری طور پر پولیس کو میڈیکل کروانے کا حکم دیتے ہوئے دونوں فریقین کو 21 اپریل کو دوبارہ طلب کرلیا۔

زرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان صلح کی آمادگی اور عدالت میں پیش ہونے کے بعد آج ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا میں ہونے والی دونوں مجرموں کی پھانسی کے عمل کو تاحکم ثانی ملتوی کردیا گیا ہے رابطہ کرنے پر جیل ذرائع کا کہنا تھا کہ پھانسی تا حکم ثانی ملتوی ہونے کے بارے میں انہیں عدالت کی طرف سے آگاہ کردیا گیا ہے آئندہ کے لئے جو بھی فیصلہ موصول ہوگا اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…