جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

2017 میں ملک بھر کی عدالتوں میں 3 لاکھ 33 ہزار 103 کیسز زیرسماعت ،کتنے مقدمے نمٹائے گئے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 16  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حالیہ رپورٹ میں کہاہے کہ 2017 میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی تاہم مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں کمی نہ آسکی۔2017 میں انسانی حقوق کی صورت حال’ کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ کو معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر سے منسوب کیا گیا ہے ٗ

جو رواں برس 11 فروری کو انتقال کرگئی تھیں اور جن کی پوری زندگی انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہوئے گزری۔رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاکتوں میں کمی آئی، لیکن مسیحیوں، احمدیوں، ہزارہ، ہندوؤں اور سکھوں سمیت تمام اقلیتوں کو حملوں کا سامنا رہا، خصوصاً توہین مذہب کے کیسز زیادہ سامنے آئے۔2017 میں مشتعل ہجوم کے حملوں میں اضافہ ہوا اور دھرنوں اور ریلیوں سے نمٹنے اور ہجوم کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کا فقدان رہا۔دوسری جانب پر امن احتجاج کے حق کو محدود کرنے کے لیے دفعہ 144 کا بے جا استعمال کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق 2017 میں ملک بھر کی عدالتوں میں 3 لاکھ 33 ہزار 103 کیسز زیرسماعت رہے جبکہ 63 مجرموں کو پھانسی لگائی گئی۔انکوائری کمیٹی کو جبری گمشدگی کے 868 کیس موصول ہوئے اور 555 کیس نمٹائے گئے۔2017میں خواتین پر تشدد کے واقعات میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا اور پہلے 10 ماہ میں خواتین کے خلاف جرائم کے 5 ہزار 660 کیسز رجسٹرڈ ہوئے۔رپورٹ کے مطابق نومبر 2017 تک پاکستانی جیلوں میں مجموعی طور پر 82 ہزار 591 قیدی تھے، جن میں خواتین قیدیوں کی کل تعداد 1442 تھی۔ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک کی جیلوں میں گنجائش سے کہیں ذیادہ قیدیوں کو رکھا گیا۔پنجاب کی جیلوں میں 50 ہزار 289 قیدی تھے، جبکہ گنجائش 32 ہزار 235 قیدیوں کی تھی۔سندھ کی جیلوں میں 19 ہزار 84 قیدی تھے جبکہ گنجائش 12 ہزار 613 قیدیوں کی تھی۔

خیبرپختونخواکی جیلوں میں 10 ہزار 811 قیدی جبکہ گنجائش 8 ہزار 395 کی تھی۔رپورٹ کے مطابق صحت و تعلیم کے شعبے میں 2017 میں بھی صورت حال تشویش ناک رہی۔ دنیا بھر میں پاکستان تپ دق کی شرح میں سرفہرست جبکہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ میں دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر رہا۔ملک میں تھیلیسیمیا اور ایڈز کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان پولیو کی منتقلی کو مکمل روکنے میں بھی ناکام رہا۔رپورٹ کے مطابق ملک میں 3 کروڑ 55 لاکھ بالغ افراد شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں۔رپورٹ کے مطابق 56 لاکھ بچے پرائمری اسکولوں اور 55 لاکھ بچے سیکنڈری اسکولوں سے باہر ہونے سے دنیا بھر میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد پاکستان میں سب سے زیادہ رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…