ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

پانچ سے دس ارب ڈالر مل جاتے ہیں تو ۔۔۔! ٹیکس ایمنسٹی سکیم اور روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں کمی کیوں کی گئی؟وزیراعظم کے مشیر نے حیرت انگیز وجہ بتادی

datetime 10  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی)وزیر اعظم کے مشیر خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ موجودہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم ماضی کی تمام سکیموں سے مختلف ہے جس کا مقصد ملک کی اقتصادی ترقی کے رفتار میں اضافہ ہے،اس سکیم کا اعلان سوچ سمجھ کر کیا گیا جس میں بین الاقوامی قوانین اور رجحانات کو مدنظر رکھا گیا اور اس پر اعتراضات بے جا ہیں،اس سکیم کی وجہ سے اگر ملک کو پانچ سے دس ارب ڈالر مل جاتے ہیں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے کیونکہ تجارتی خسارہ

اس وقت سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ وہ منگل کو ایف پی سی سی آئی کیپیٹل آفس میں ایک پری بجٹ میٹنگ سے خطاب کررہے تھے، جس میں ملک بھر کی درجنوں تجارتی تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔وزیر اعظم کے مشیر خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے کہا کہ ایف بی آر کا کلچر تبدیل کر رہے ہیں اور اگر کاروباری برادری کا ڈر ختم ہو جائے تو ملک کو کسی قسم کی امداد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ موجودہ سیاسی عدم استحکام کے اثرات سے معیشت کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں مگر اسکی اثرات سے مکمل طور پر بچنا مشکل ہے۔تجارتی معاہدوں کی وجہ سے برامدات کے بجائے درامدات میں اضافہ ہوا ہے جس کی حوصلہ شکنی کیلئے درامدات پر دیگولیٹری ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں جبکہ کرنسی کی قدر بھی کم کی گئی ہے جسکے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔گزشتہ ماہ برامدات چوبیس فیصد بڑھی ہیں جبکہ درامدات چھبیس فیصد سے کم ہو کر چھ فیصد تک آ گئی ہیں۔ مستقبل کے تجارتی معاہدوں میں شراکت داروں کی بھرپور شرکت یقینی بنائی جائے گی جبکہ کاروباری برادری کو بھی اپنے مفادات کی حفاظت کیلئے خود قدم اٹھانے ہونگے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے دور میں محاصل کو دگنا کر کے 1946 ارب روپے کی سطح تک پہنچا دیا ہے جبکہ اس دوران افراط زر سب سے کم یعنی اوسطاً چار فیصد رہا۔

ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو تین فیصد سے بڑھا کر چھ فیصد کے قریب کر دیا گیا ہے ۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 35 فیصد سے کم کر کے تیس فیصد کر دیا گیا ہے جس میں مزید کمی کی جائے گی مگر یہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ سے مشروط ہے۔انھوں نے کہا کہ بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کو پر ممکن سہولت دی جا رہی ہے جبکہ کمپیوٹر اندسٹری کو مراعات دینے سے اسکی قانونی درامد دگنی ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت درامدات پر انحصار ممکنہ ھد تک کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے

جبکہ مقامی صنعت کو بچاتے ہوئے مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے گا ورنہ ملک کا چلانا مشکل ہو جائے گا۔ قبل ازیں ایف پی سی سی آئی کے صدر غضنفر بلوراور دیگر تاجر رہنماؤں نے وزیر ریونیو کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا ۔ انھوں نے ٹیکس سسٹم میں اصلاحات اور مساوی مواقع کا مطالبہ بھی کیا۔ اس موقع پرچئیرمین ایف بی آرطارق محمود پاشا، سینیٹر الیاس بلور ، زبیر طفیل، عبدالرؤف عالم، مظہر علی ناصر، عارف جیوا، عرفان یوسف، زبیر احمد ملک، کریم عزیز ملک، ، ملک سہیل حسین،زاہد شنواری اور دیگر بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…