ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے سیاست چھوڑنے کامشروط اعلان کردیا

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

پشاور/سوات(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ باچا خان اور ولی خان کے افکار کی روشنی میں پختونوں اور تمام مظلوم قومیتوں کی بقاء کیلئے آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے، اٹھارویں ترمیم کو رول بیک نہیں کرنے دینگے، اگر پختونوں کو سی پیک میں حصہ نہیں دیا جاتا تو وزیراعظم سے اپیل ہے کہ اس روٹ کا نام بدل دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے این پی ضلع لوئر دیر کے زیراہتمام منعقدہ جلسہ عام سے کیا۔ جلسے سے اے این پی کے صوبائی

صدر امیرحیدرخان ہوتی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور این اے 6 سے پارٹی کے نامزد امیدوار زاہد خان اور ضلعی صدر حسین شاہ یوسف زئی نے بھی خطاب کیا۔اسفندیارولی خان نے اپنے خطاب میں فاٹا انضمام میں تاخیر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں مزید لیت و لعل اور تاخیر مزید پیچیدہ مسائل کا پیش خیمہ بنے گی، اس لئے قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرکے صوبائی اسمبلی میں نمائیندگی دی جائے، انہوں نے کہا کہ فاٹا کے تمام مسائل کا حل خیبر پختو نخوا میں انضمام سے وابستہ ہے، فاٹا انضمام کے مطالبے سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، نہ ہی فاٹا کے دوستوں کو اکیلے چھوڑینگے مگر ہمیں آئینی حدود میں رہ کر اپنی جدوجہد کرنی ہے اور اس وقت تک ہماری یہ جدوجہد جاری رہے گی جب تک مذکورہ مسائل حل نہ ہوں، انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد تب تک جاری رہے گی جب تک اس دھرتی کے باشندوں کیلئے باعزت ، خوشحال اور پرامن زندگی گذارنے کے مواقع پیدا نہ ہوں۔ اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ ہم نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کے حقوق حاصل کئے اور اب اسے رول بیک کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مزاحمت کی جائیگی اور اس اقدام کے خلاف ہم میدان میں نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ سینٹ انتخابات کے موقعہ پر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے اپنا ضمیر کا سودا کیا،

انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ نواز شریف اور زرداری کو ایک ہی سکے کے دو رخ قرار دیتے رہے لیکن دنیا نے دیکھا کہ سینیٹ الیکشن میں انہوں نے کس سے ہاتھ ملایا اور اپنے ارکان کس کی جھولی میں ڈال دیئے۔ اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ میں آصف علی زرداری کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے اس طرح کپتان کو بے نقاب کرکے عوام کے سامنے کھڑا کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے خود کہا تھا کہ ان کے ارکان بک گئے۔ ان ارکان نے ایک طرف پی ٹی آئی سے پیسے لے کر

ایک جیب میں رکھے اور پھر دوسروں سے بھی رقم بٹورکر دوسری جیب میں رکھے، انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان میں جراًت ہے تو ان اراکین کے نام ظاہر کردے۔انہوں نے مزید کہا کہ کپتان کے آنے کے بعد سیاست سے شفافیت اور شائستگی ختم ہوگئی ہے۔اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سی پیک کا مسئلہ ہمیں درپیش ہے جس میں پختونوں کو کوئی حصہ نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے التجا کی کہ کیوں نہ اب اس کا نام بدل کر چائینا پنجاب اکنامک کوریڈور رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماسوائے باچا خان کے میراث کے اگر میرے، میری شریک حیات، بیٹے یا بیٹی کے نام سے ایک قطعہ بھی کسی نے ثابت کیا تو میں سیاست چھوڑ دونگا اور یہی فارمولا دوسرے مخالفین بھی اپنے اوپر لاگو کرلیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے تاریخ میں پہلی بار دیر سے کسی خاتون کو سینٹ کا ٹکٹ دیکر منتخب کیاتھا اور یہ دراصل اس تحریک کی راہ میں شہید ہونے والوں کی قربانیوں کا اعتراف تھا۔متحدہ مجلس عمل کی بحالی پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے اسفندیارولی خان نے کہا کہ

پانچ برس سے سراج الحق عمران خان کے اور مولانا فضل الرحمٰن نواز شریف کے اتحادی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن عمران خان کو برا بھلا کہتے رہے اورسراج الحق نواز شریف پر کرپشن کے الزمات لگاتے رہے، تب ان کو اسلام یاد نہیں تھا، اقتدار کے خاتمے کے ایام قریب آتے ہی دونوں کواسلام یاد آگیااور آج تیسرا دن ہے، دونوں پارٹیاں صوبائی صدارت کیلئے دست و گریباں ہیں، انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے گذشتہ پانچ سالوں کا حساب دینا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…