ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر‘بے حرمتی اور قتل کا نشانہ بننے والی 8سالہ کم سن آصفہ کو اغوا کے بعد مندر میں رکھا گیا،بچی کی آبرو ریزی اور قتل کا اصل مقصد کیا تھا؟افسوسناک انکشافات

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں جموں خطے کے علاقے کٹھوعہ میں اغوا کے بعدبے حرمتی اور قتل کا نشانہ بننے والی 8سالہ کم عمر بچی آصفہ کے حوالے سے میڈیکل رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ بچی کو اغوا کے بعد ایک مندر میں رکھا گیا تھا اور آبرو ریزی کے بعد اسے گلہ دبا کر قتل کیا گیا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق آصفہ کو ضلع کٹھوعہ کے علاقے ہیرا نگر میں اپنے آبائی علاقے رسانا سے روان برس دس جنوری کو اغوا کیا گیا تھا جبکہ 17جنوری کو

اسکی مسخ شدہ لاش گاؤ ں کے کھیت سے برآمد ہوئی تھی۔ بہیمانہ واقعے کی تحقیقات پولیس کا کرائم برانچ کر رہا ہے جس نے اب تک دیپک کجھوریہ، وشال، سنجائی رام، سندر کمار ، پرویس کمار اور سیندر کمار کو مجرم قرار دیا ہے۔ ان سب کا تعلق بھارتی پولیس سے ہے اور کرائم برانچ کی طرف سے ان کے خلاف چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کٹھوعہ میں چارچ شیٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ کرائم برانچ کے ایک افسر نے تصدیق کر دی ہے کہ مجرموں کے خلاف چارچ شیٹ آئندہ پیر یا منگل کے روز پیش کی جائے گی۔یا رہے کہ جموں کی ہندو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے مجرموں کو بچانے کی سخت کوششوں کی جارہی ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں مقائم کٹھ پتلی حکومت کی اتحادی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام نہاد وزرا کی طرف سے بھی مجرموں کوتحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزرا مجرموں کے حق میں جموں میں نکالی جانے والی ریلیوں میں بھی شریک ہو ئے ۔ ہند و انتہا پسندجماعتوں کی طرف سے بہیمانہ واقعے کی تحقیقات کا کام کشمیر پولیس کے کرائم برانچ سے واپس لیکر بھارتی سی بھی آئی کے سپرد کرنے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ میڈیل رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بچی کو آبرو ریزی کے بعد گلہ دبا کر قتل کیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس بہیمانہ کارروائی کا مقصدکھٹوعہ میں رپائش پذیر مسلمانوں کو علاقہ چھوڑے پر مجبور کرنا تھا۔جموں خطے کے ضلع کٹھوعہ میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…