ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

اب نیب میں مقدمات سالہاسال تک نہیں چلیں گے،چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے ایسا قدم اُٹھالیاکہ بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ گئے،دھماکہ خیز اعلان

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبا ل نے پراسیکویشن اور آپریشن ڈویژن کے علاوہ نیب کے تمام ریجنل بیوروز کے ڈائریکٹر جنرلز کو میگا کرپشن مقدمات کے علاوہ تمام زیر التواء مقدمات خصوصاً انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق پہلے سے طے شدہ 10 ماہ کے اندر منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ اب نیب میں مقدمات سالہاسال تک نہیں چلیں گے، اب صرف کام، کام اور صرف کام ہو گا،’احتساب سب کیلئے‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے

بدعنوانی کو آہنی ہاتھوں سے ختم کرنا ہے، افسران نیب میں پیش ہونیوالے سرکاری، کاروباری اور پرائیویٹ افراد کی عزت نفس کا قانون کے مطابق خیال رکھیں۔چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے یہ بات جمعرات کو قومی احتساب بیورو ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں نیب کے آپریشن اور پراسیکیوشن ڈویژنوں کی کارکردگی خصوصاً میگا کرپشن مقدمات پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ 11 اکتوبر 2017ء کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد میں نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ 179 میگا کرپشن مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب کے احکامات کی روشنی میں نیب ہیڈ کوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز نے میگا کرپشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے حوصلہ افزاء کاوشیں کی ہیں اور 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 101 بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ احتساب عدالتوں میں جمع کرائے جا چکے ہیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ نیب میں اس وقت 19 مقدمات میں انکوائریاں اور 23 مقدمات انویسٹی گیشن کے مراحل سے گزر رہے ہیں جبکہ 36 مقدمات کو منطقی انجام تک قانون کے مطابق نمٹایا جا چکا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پراسیکویشن اور آپریشن ڈویژن کے علاوہ نیب کے تمام ریجنل بیوروز کے

ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ میگا کرپشن مقدمات کے علاوہ تمام زیر التواء مقدمات خصوصاً انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق پہلے سے طے شدہ 10 ماہ کے اندر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب نیب میں مقدمات سالہاسال تک نہیں چلیں گے، اب صرف کام، کام اورصرف کام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جسے ہم نے میرٹ، شواہد، شفافیت اور ’احتساب سب کیلئے‘کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے آہنی ہاتھوں سے ختم کرنا ہے۔ انہوں نے

نیب افسران کو ہدایت کی کہ نیب میں پیش ہونیوالے سرکاری، کاروباری اور پرائیویٹ افراد کی عزت نفس کا قانون کے مطابق خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کریں جو بھی ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کیا جائے اس میں ملزموں کے بیانات، ٹھوس شواہد اور قانون کے حوالوں کا ذکر کرکے ریفرنس کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ نیب کی طرف سے دائر بدعنوانی کے ریفرنسز میں ملزمان کو سزاء دلوانے کی موجودہ شرح جو کہ 76 فیصد ہے اس میں مزید اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…