ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اب نیب میں مقدمات سالہاسال تک نہیں چلیں گے،چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے ایسا قدم اُٹھالیاکہ بڑے بڑوں کے پسینے چھوٹ گئے،دھماکہ خیز اعلان

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبا ل نے پراسیکویشن اور آپریشن ڈویژن کے علاوہ نیب کے تمام ریجنل بیوروز کے ڈائریکٹر جنرلز کو میگا کرپشن مقدمات کے علاوہ تمام زیر التواء مقدمات خصوصاً انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق پہلے سے طے شدہ 10 ماہ کے اندر منطقی انجام تک پہنچانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ اب نیب میں مقدمات سالہاسال تک نہیں چلیں گے، اب صرف کام، کام اور صرف کام ہو گا،’احتساب سب کیلئے‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے

بدعنوانی کو آہنی ہاتھوں سے ختم کرنا ہے، افسران نیب میں پیش ہونیوالے سرکاری، کاروباری اور پرائیویٹ افراد کی عزت نفس کا قانون کے مطابق خیال رکھیں۔چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے یہ بات جمعرات کو قومی احتساب بیورو ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں نیب کے آپریشن اور پراسیکیوشن ڈویژنوں کی کارکردگی خصوصاً میگا کرپشن مقدمات پر اب تک کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ 11 اکتوبر 2017ء کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد میں نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ 179 میگا کرپشن مقدمات کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چیئرمین نیب کے احکامات کی روشنی میں نیب ہیڈ کوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز نے میگا کرپشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے حوصلہ افزاء کاوشیں کی ہیں اور 179 میگا کرپشن مقدمات میں سے 101 بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ احتساب عدالتوں میں جمع کرائے جا چکے ہیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔ نیب میں اس وقت 19 مقدمات میں انکوائریاں اور 23 مقدمات انویسٹی گیشن کے مراحل سے گزر رہے ہیں جبکہ 36 مقدمات کو منطقی انجام تک قانون کے مطابق نمٹایا جا چکا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پراسیکویشن اور آپریشن ڈویژن کے علاوہ نیب کے تمام ریجنل بیوروز کے

ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ میگا کرپشن مقدمات کے علاوہ تمام زیر التواء مقدمات خصوصاً انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق پہلے سے طے شدہ 10 ماہ کے اندر منطقی انجام تک پہنچائی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب نیب میں مقدمات سالہاسال تک نہیں چلیں گے، اب صرف کام، کام اورصرف کام ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جسے ہم نے میرٹ، شواہد، شفافیت اور ’احتساب سب کیلئے‘کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے آہنی ہاتھوں سے ختم کرنا ہے۔ انہوں نے

نیب افسران کو ہدایت کی کہ نیب میں پیش ہونیوالے سرکاری، کاروباری اور پرائیویٹ افراد کی عزت نفس کا قانون کے مطابق خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کریں جو بھی ریفرنس احتساب عدالتوں میں دائر کیا جائے اس میں ملزموں کے بیانات، ٹھوس شواہد اور قانون کے حوالوں کا ذکر کرکے ریفرنس کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ نیب کی طرف سے دائر بدعنوانی کے ریفرنسز میں ملزمان کو سزاء دلوانے کی موجودہ شرح جو کہ 76 فیصد ہے اس میں مزید اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…