ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان جیت گیا، دنیا ہار گئی، وزیراعظم

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان جیت گیا، دنیا ہارگئی، بے پناہ قربانیوں کے باعث آج پاکستان محفوظ ملک ہے، عالمی برادری کشمیر کا مسئلہ سمجھے اور حل کرے، ہم نے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو شکست دی جسے دنیا تسلیم کرے،دہشت گردی کے خلاف ہزاروں جانیں قربان ہوئیں، پاکستان کے علاوہ کوئی نہیں جس کی 2 لاکھ سے زائد فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔

پہلی بار 1800 علمانے جہاد کے معنی اور خودکش حملوں پرفتوی دیا۔پاکستان سے زیادہ کوئی ملک افغانستان میں امن کا خواہش مند نہیں، پاکستان نے پہلی بار افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانی شروع کی ۔ جمعرات کو اسلام آباد میں بین الاقوامی انسداد دہشت گردی فورم سے خطاب کرتے ہوئیپاکستان نے دہشت گردی کیخلاف بھاری قیمت ادا کی، معاشی نقصانات بھی اٹھائے، دہشتگردی کی جنگ میں بینظیرجیسی سیاستدان سمیت قیمتی جانیں گنوائیں۔ انہوں نے کہا سانحہ اے پی ایس سے دہشتگردی کے خلاف جنگ نے نیا رخ اختیار کیا، کوئی ایسا ملک نہیں جس نے اپنے وسائل سے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں متحد رہے اور قومی لائحہ عمل اختیار کیا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا بے پناہ قربانیوں کے باعث آج پاکستان محفوظ ملک ہے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانیں قربان ہوئیں، ضرب عضب، رد الفساد اور دیگر آپریشن شہروں اور سرحدی قبائلی علاقوں میں کیے گئے، ہم نے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو شکست دی جسے دنیا تسلیم کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ کوئی نہیں جس کی 2 لاکھ سے زائد فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا، ہماری فوج، پولیس، سیاسی جماعتوں اور عوام کی کوششوں سے ملک آج پرامن ہے، پاکستان نے بے مثال ترقی حاصل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار 1800 علمانے جہاد کے معنی اور خودکش حملوں پرفتوی دیا، پاکستان نے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا اور کررہا ہے، چیلنجز اب بھی درپیش ہیں لیکن ہمیں آدھے بھرے گلاس کی طرف دیکھنا چاہیے،شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہش مند ہے، پاکستان سے زیادہ کوئی ملک افغانستان میں امن کا خواہش مند نہیں، پاکستان نے پہلی بار افغانستان کی سرحد پر باڑ لگانی شروع کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…