ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

میں خواجہ سرا کمیونٹی سمیت سب کیلئے ایک مثال ہوں،جب اپنی پہچان بنانے کا ارادہ کیا تو گھر والوں نے کیا سلوک کیا؟ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا نیوزکاسٹر مارویہ ملک کے افسوسناک انکشافات

datetime 3  اپریل‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان کی پہلی خواجہ سرا نیوز کاسٹر مارویہ ملک نے خود کو پورے معاشرے کے لیے ایک مثال قرار دیتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جب خواجہ سراؤں کو گھر سے نکال دیا جاتا ہے تو پھر ان کے پاس سڑکوں پر بھیک مانگنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔لاہور کے ایک نجی چینل پر بحیثیت نیوز کاسٹر خدمات انجام دینے والی مارویہ ملک نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ میں اپنی کمیونٹی سمیت سب کے لیے ایک مثال ہوں کہ

جب خواجہ سرا فیشن اور میڈیا میں جگہ حاصل بناسکتے ہیں تو دیگر شعبوں میں بھی وہ اہمیت کے حامل ہیں۔میری مثال امن کا پیغام دیتی ہے اور ملک میں شعور پیدا کرتی ہے۔21 سالہ مارویہ نے بتایا کہ انہوں نے صحافت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر فیشن کی دنیا میں اپنا سفر بطور میک اپ آرٹسٹ شروع کیا اور بعد میں تھیٹر پرفارمنس بھی دی۔مارویہ نے بتایا کہ جب انہوں نے معاشرے میں اپنی پہچان بنانے کا ارادہ کیا تو ان کے گھر والوں نے بالکل بھی حوصلہ افزائی نہیں کی بلکہ ان پر ظلم و تشدد کیا اور انہیں گھر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا لیکن انہوں نے کسی کی نہیں مانی اور پھر ایک دن ان کے گھر والوں نے انہیں گھر سے نکال دیا۔اس سب کے باوجود بھی انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے دوسرے خواجہ سرا دوستوں کی مدد اور حوصلہ افزائی سے اپنے مقصد کے حصول میں لگی رہیں۔اس موقع پر انہوں نے شکوہ کیا کہ جب والدین اور گھر والے ہی کسی خواجہ سرا بچے کو تعلیم و تربیت نہیں دیں گے اور اسے گھر سے نکال دیں گے تو وہ سڑکوں پر بھیک نہیں مانگے کا تو اور کیا کرے گا۔اس حوالے سے حکومتی سطح پر قانون سازی کارآمد ثابت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ خواجہ سراؤں کے ملکیتی حقوق کے حوالے سے بھی کام کرے، جہاں ان کی تعلیم ضروری ہے وہیں ان کا پراپرٹی میں حصہ بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنا کوئی کاروبار کرسکیں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…