ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ریفرنڈم کرانے سے متعلق کیس کی سماعت ،سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا،ڈیم اہم سیاسی شخصیت سے منسوب کرنے کی تجویز،2025 میں پانی کی سطح ختم ہوجائے گی اور ۔۔! چونکا دینے والے انکشافات

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ریفرنڈم کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاق کو نوٹس جاری کردیا۔ پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ریفرنڈم کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ 2025 میں پانی کی سطح ختم ہوجائے گی اور ابھی سے ہی ملک میں پانی کی قلت پیدا ہورہی ہے۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے

ریمارکس دیئے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں ڈیمز بننے چاہئیں، کالاباغ ڈیم کے معاملے پر صوبوں میں اتفاق نہیں ہے، مشترکہ مفادات کونسل نے کالا باغ ڈیم سے متعلق عوام کو آگاہی دینے کا فیصلہ دیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سابق چیئرمین واپڈا نے کالا باغ ڈیم پر آگاہی شروع کی، اس پر چیئرمین واپڈا کو نکال دیا گیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت نے فیصلہ کرنا ہے اور حکومت نے پانی کی فراہمی کو دیکھنا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عدالت میں سماعت کے دوران مرحوم مجید نظامی کے آرٹیکل کا تذکرہ بھی ہوا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجید نظامی نے 2007 میں واٹر بم کے نام سے ایک آرٹیکل لکھا، آپ اسے انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھیں۔سماعت کے دوران درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے کہا کہ اگر نام کا مسئلہ ہے تو کالا باغ کی جگہ بے نظر بھٹو ڈیم رکھ لیں لیکن یہ ڈیم پاکستان کا مستقبل ہے۔اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ مسئلہ نام کا نہیں مسئلہ گہرا ہے نجی ٹی وی کے مطابق بعد ازاں عدالت نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ریفرنڈم کی درخواست پر وفاق کونوٹس جاری کردیا۔عدالت نے کہا کہ حکومت نے مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی آگاہی مہم کیلئے کیا اقدامات کیے ہیں اس پر بھی وفاق جواب دے، جس کے بعد کیس کی سماعت 15 دروز کیلئے ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…