ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عوامی معاملات پر نوٹس اور مداخلت سے عدالتی امورپر کیا فرق پڑ رہاہے؟چیف جسٹس ثاقب نثار کا حیرت انگیزانکشاف،’’مداخلت کے مسئلے‘‘ کے حل کیلئے حکومت کو بڑی پیشکش کردی

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کور ٹ کے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ سرکار کے کرنے والے کام بھی ہمیں کرنے پڑرہے ہیں اگر حکومت اپنے کام خود کرے تو مداخلت نہیں کریں گے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں پمزہسپتال کے بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر کے بند ہونے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کی۔ چیف جسٹس نے پمز ہسپتال کی جانب سے کیس کی نمائندگی کرنے والے ڈاکٹرامجد سے استفسار کیا کہ بون میرو سینٹر بند کرنے کی کیا وجہ ہے۔

ڈاکٹرامجد نے جواب دیا کہ دو ڈاکٹرز اور ایک نرس کو مستقل نہیں کیا گیا جس پر مسئلہ بنا۔ وزارتِ کیڈ کو 13 خطوط لکھے تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اب سب کی نظریں عدالت کی جانب ہی ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ صرف 3 لوگوں کی تقرری کی وجہ سے پورا سینٹر بند ہوگیا۔چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سرکار کے کرنے والے کام بھی ہمیں کرنے پڑ رہے ہیں پھر کہتے ہیں سپریم کورٹ کام میں مداخلت کرتی ہے اگر حکومت اپنے کام خود کرے تو مداخلت نہیں کریں گے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنے کام کی قربانی دے رہے ہیں میں تو ہفتے اور اتوار کو بھی چھٹی نہیں کرتا۔عدالت نے پمز ہسپتال کو بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر کھولنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ سینٹر کو شام 4 بجے تک فعال کیا جائے اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے عملہ تعینات کیا جائے جبکہ موجود عملے کے واجبات بھی فوری ادا کئے جائیں، نئی تعیناتیاں ہونے تک موجودہ عملہ کام جاری رکھے۔ عدالت نے برطرف ملامین کو فوری بحال کرنے کا بھی حکم دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…