ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’اردو کی تدریسی کتاب کم اور فحش ناول زیادہ‘‘ دیکھئے سوشل میڈیا پر وائرل ایک سرکاری یونیورسٹی کی اردو کی کتاب کا فحش مضمون

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایم اے سال اول اردو گائیڈ جو کہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے جدید نصاب کے عین مطابق ہے، اس کے صفحہ 605 پر ایسے الفاظ ہیں کہ جسے پڑھ کر نوجوان لڑکی اور لڑکے کے جذبات ضرور ابھریں گے، اردو ادب کے نام پر ایسی تعلیم دی جا رہی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

یونیورسٹی میں پڑھایا جانے والا یہ نصاب جذبات میں تلاطم برپا کرنے کا باعث بنے گا، یہ ایک احساس اور جذبے کو خوبصورتی سے بیان کرنے کی کوشش ہے۔ اس کتاب کے صفحہ 605 میں سے کچھ اقتباس پیش ہیں، دیر تک وہ اپنے گھسے ہوئے ناخنوں کی مدد سے چولی کی گانٹھ کھولنے کی کوشش کرتی رہی جو بھیگنے کی وجہ سے بہت زیادہ مضبوط ہو گئی تھی۔ جب تھک ہار کر بیٹھ گئی تو اس نے مراٹھی زبان میں رندھیر سے کچھ کہا جس کا مطلب یہ تھا، ’’میں کیا کروں۔۔۔ نہیں نکلتی۔‘‘ رندھیر اس کے پاس بیٹھ گیا اور گانٹھ کھولنے لگا، جب نہیں کھلی تو اس نے چولی کے دونوں سروں کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر اس زور سے جھٹکا دیا کہ گانٹھ سراسر پھیل گئی اور اس کے ساتھ ہی دو دھڑکتی ہوئی چھاتیاں ایک دم سے نمایاں ہو گئیں۔ اس کے آگے جو لکھا گیا ہے وہ یہاں بیان کرنا مناسب نہ ہوگا لیکن مذکورہ الفاظ سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کیسا اردو ادب پڑھایا جا رہا ہے۔ ایم اے سال اول اردو گائیڈ جو کہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے جدید نصاب کے عین مطابق ہے، اس کے صفحہ 605 پر ایسے الفاظ ہیں کہ جسے پڑھ کر نوجوان لڑکی اور لڑکے کے جذبات ضرور ابھریں گے، اردو ادب کے نام پر ایسی تعلیم دی جا رہی ہے جس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ یونیورسٹی میں پڑھایا جانے والا یہ نصاب جذبات میں تلاطم برپا کرنے کا باعث بنے گا، یہ ایک احساس اور جذبے کو خوبصورتی سے بیان کرنے کی کوشش ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…