ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اگر میں چاہتی تو کبھی اپنا ملک نہ چھوڑتی،ملالہ یوسفزئی وطن واپسی کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے کہا ہے کہ تعلیم‘ صحت اور معیشت پر سیاست نہیں ہونی چاہئے‘ چاہتی ہوں کہ پاکستان میں خواتین بااختیار ہوں‘ تمام سیاسی جماعتوںکو ایک ہونا چاہئے‘ ہمیں نوجوانوں کی تعلیم کے حوالے سے کام کرنا چاہئے‘ میں پاکستان میں بچوں کی تعلیم کے لئے کام کرنا چاہتی ہوں۔جمعرات کو وزیراعظم آفس میں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے اعزاز مین تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ گر میں چاہتی تو کبھی اپنا ملک نہ چھوڑتی، پچھلے پانچ سال سے میں پاکستان میں قدم رکھنے کا سوچ رہی ہوں وطن آنے پر بہت خوش ہوں دنیا کے ہر حصے میں پاکستان کے بارے میں سوچتی ہوں۔ میں 1999 میں پیدا ہوئی ابھی بیس برس کی ہوں 2007 میں ہمارے علاقہ سوات میں دہشت گردی کا آغاز ہوا مجھ پر حملہ ہونا اور ملک سے باہر جانا سارے واقعات میرے سامنے ہیں۔ مگر مجھے مزید علاج کے لئے باہر جانا پڑا ممیرا خواب تھا کہ میں پاکستان واپس آکر تعلیم حاصل کروں پاکستان کا مستقبل تعلیم سے جڑا ہے ملالہ فنڈ اس مقصد کے لئے پہلے سے کام کررہا ہے۔ ہمیں بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنا چاہئے ملالہ فنڈز پہلے ہی اس مقصد کے لئے کام کررہا ہے ہم اب تک چھ ملین ڈالر تعلیمی مقاصد کے لئے پاکستان میں لگا چکے ہیں ہم خواتین پر محنت کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے پائوں پر کھڑی ہو جائیں یہ بہت ضروری ہے میں اپنے لوگوں سے ملنے آئی ہوں۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ ہم تعلیم کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر کام کررہے ہیں مجھے ابھی یقین نہیں آرہا کہ میں پاکستان میں ہوں سب کو مل کر پاکستان کے لئے کام کرنا چاہئے۔ وزیراعظم ہاس میں تقریب سے خطاب کے دوران ملالہ یوسفزئی وطن واپسی کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…