منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں گزشتہ 30 برس میں شدید گرمی کی لہروں میں سالانہ5 گنا اضافہ ہوا

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان میں گزشتہ 30 برس میں شدید گرمی کی لہروں میں سالانہ5 گنا اضافہ ہوا ہے۔ کراچی کے قریب سمندر کی اوسط بلندی 10 سینٹی میٹر بڑھی ہے اس صدی کے اختتام تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت 2 سے 5 درجے سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں پر سمندروں کی اوسط سطح بڑھ کر 60 سینٹی میٹر ہوجائے گی اور دریائے سندھ کا بہاناقابل اعتبار ہونے سے زراعت اور آبادی شدید متاثر ہوگی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی 130 صفحے کی تفصیلی رپورٹ میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے – پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز ماہر ڈاکٹر قمرالزماں چوہدری کی مرتب کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گرمی بڑھنے سے دریاں کے پانی کے بخارات بننے کا عمل بڑھے گا جس سے پانی کی قلت ہوگی اور دریاں میں پانی کی قلت ہوجائے گی۔رپورٹ میں ایک جانب تو ماضی میں ہونے والی موسمیاتی اور آب و ہوا کی تبدیلیاں نوٹ کرکے مستقبل کا منظر کھینچا گیا ہے جبکہ دوسری جانب آب و ہوا سے متعلق جدید ماڈلوں کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ان سے مستقبل کے رحجانات اور امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ڈاکٹر قمرالزماں چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) سے متعلق بہت موثر پالیسی تیار کی ہوئی ہے، جس پر کچھ عمل درآمد تو ہوا ہے لیکن اس کے دیگر پہلوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آب و ہوا اور موسم کے لحاظ سے پاکستان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، لیکن اگلے پانچ برس میں موسمیاتی شدت اور مون سون کے معمول میں بگاڑ کے واقعات زیادہ رونما ہوسکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایک جانب تو 2030 تک گرین ہاس گیسوں کے اخراج کو 20 فیصد تک کم کرنا ہے لیکن دوسری جانب آب و ہوا کے مسائل حل کرنے کے لیے اسے سالانہ 7 تا 14 ارب ڈالر کی بھی ضرورت ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عالمی تپش کی وجہ بننے والی گرین ہاس گیسوں کے فی کس اخراج کے لحاظ سے پاکستان کا 135 واں نمبر ہے لیکن ایک تنظیم جرمن واچ کے مطابق پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے اور ہو بھی رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والی تبدیلیاں خطے کے بقیہ علاقوں سے زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔گرم دن اور گرم راتوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور چاول و گندم کی پیداوار کم ہوجائے گی جب کہ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی شدت اور دورانیے، دونوں میں ہی تیزی واقع ہوگی۔ پاکستان میں موسمیاتی شدت کے واقعات بڑھ گئے ہیں جن کی ایک مثال پنجاب اور بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشیں ہیں جو موسمیاتی مظاہر کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…