پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

پاکستان میں گزشتہ 30 برس میں شدید گرمی کی لہروں میں سالانہ5 گنا اضافہ ہوا

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان میں گزشتہ 30 برس میں شدید گرمی کی لہروں میں سالانہ5 گنا اضافہ ہوا ہے۔ کراچی کے قریب سمندر کی اوسط بلندی 10 سینٹی میٹر بڑھی ہے اس صدی کے اختتام تک پاکستان میں اوسط درجہ حرارت 2 سے 5 درجے سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں پر سمندروں کی اوسط سطح بڑھ کر 60 سینٹی میٹر ہوجائے گی اور دریائے سندھ کا بہاناقابل اعتبار ہونے سے زراعت اور آبادی شدید متاثر ہوگی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی 130 صفحے کی تفصیلی رپورٹ میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے – پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز ماہر ڈاکٹر قمرالزماں چوہدری کی مرتب کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں گرمی بڑھنے سے دریاں کے پانی کے بخارات بننے کا عمل بڑھے گا جس سے پانی کی قلت ہوگی اور دریاں میں پانی کی قلت ہوجائے گی۔رپورٹ میں ایک جانب تو ماضی میں ہونے والی موسمیاتی اور آب و ہوا کی تبدیلیاں نوٹ کرکے مستقبل کا منظر کھینچا گیا ہے جبکہ دوسری جانب آب و ہوا سے متعلق جدید ماڈلوں کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ان سے مستقبل کے رحجانات اور امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ڈاکٹر قمرالزماں چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) سے متعلق بہت موثر پالیسی تیار کی ہوئی ہے، جس پر کچھ عمل درآمد تو ہوا ہے لیکن اس کے دیگر پہلوں پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آب و ہوا اور موسم کے لحاظ سے پاکستان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، لیکن اگلے پانچ برس میں موسمیاتی شدت اور مون سون کے معمول میں بگاڑ کے واقعات زیادہ رونما ہوسکتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ایک جانب تو 2030 تک گرین ہاس گیسوں کے اخراج کو 20 فیصد تک کم کرنا ہے لیکن دوسری جانب آب و ہوا کے مسائل حل کرنے کے لیے اسے سالانہ 7 تا 14 ارب ڈالر کی بھی ضرورت ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عالمی تپش کی وجہ بننے والی گرین ہاس گیسوں کے فی کس اخراج کے لحاظ سے پاکستان کا 135 واں نمبر ہے لیکن ایک تنظیم جرمن واچ کے مطابق پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جو کلائمیٹ چینج سے سب سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے اور ہو بھی رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہونے والی تبدیلیاں خطے کے بقیہ علاقوں سے زیادہ بھی ہوسکتی ہیں۔گرم دن اور گرم راتوں کی تعداد بڑھتی جائے گی اور چاول و گندم کی پیداوار کم ہوجائے گی جب کہ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی شدت اور دورانیے، دونوں میں ہی تیزی واقع ہوگی۔ پاکستان میں موسمیاتی شدت کے واقعات بڑھ گئے ہیں جن کی ایک مثال پنجاب اور بالائی علاقوں میں ہونے والی بارشیں ہیں جو موسمیاتی مظاہر کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…