جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

67 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آگئی،زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی میں ایک ہی شخص کے ملوث نکلا،ثبوت مل گئے، آئی جی عارف نواز نے تفصیلات بتادیں

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)  قصور میں 7 سالہ بچی زینب امین کے قتل کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ زینب اور دیگر سات بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کی واردات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں 227 کے قریب افراد کو شامل تفتیش کیا گیا اور ان میں سے 67 افراد کے ڈی این اے

ٹیسٹ لیے گئے لیکن کسی ایک بھی شخص کے ڈی این اے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔آئی جی پنجاب نے بتایا کہ زینب اور اس سے پہلے 7 کیسز میں لیے گئے ڈی این اے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایک ہی شخص نے یہ گھناؤنا جرم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہمیں زینب قتل کیس میں 80 فیصد کامیابی حاصل ہو گئی ہے، جونہی اس کیس میں کوئی پیشرفت سامنے آئے گی تو اسے پوری قوم کے سامنے رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس ملزم کے پیچھے ہے اور اپنی طرف سے کوششیں کر رہے ہیں، پرامید ہیں کہ اس معاملے کو جلدی حل کر لیں گے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے آئی جی پنجاب پولیس نے کہا کہ اس میں نظر آنے والی تصویر واضح نہیں تھی، اس تصویر کی کوالٹی کو مزید بہتر بنایا گیا لیکن ابھی بھی اس کی کوالٹی بہتر نہیں ہے۔خیال رہے کہ 4 جنوری کو اغواء کی گئی زینب کی لاش تین روز قبل قصور کے شہباز روڈ سے ملی تھی۔ اس واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دی تھیں اور ڈی سی آفس سمیت لیگی ایم پی اے کے ڈیرے پر بھی دھاوا بولا تھا۔ قصور میں 7 سالہ بچی زینب امین کے قتل کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ زینب اور دیگر سات بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کی واردات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے  کہا کہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں 227 کے قریب افراد کو شامل تفتیش کیا گیا اور ان میں سے 67 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے لیکن کسی ایک بھی شخص کے ڈی این اے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…