ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

67 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ آگئی،زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی میں ایک ہی شخص کے ملوث نکلا،ثبوت مل گئے، آئی جی عارف نواز نے تفصیلات بتادیں

datetime 12  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)  قصور میں 7 سالہ بچی زینب امین کے قتل کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ زینب اور دیگر سات بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کی واردات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں 227 کے قریب افراد کو شامل تفتیش کیا گیا اور ان میں سے 67 افراد کے ڈی این اے

ٹیسٹ لیے گئے لیکن کسی ایک بھی شخص کے ڈی این اے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔آئی جی پنجاب نے بتایا کہ زینب اور اس سے پہلے 7 کیسز میں لیے گئے ڈی این اے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایک ہی شخص نے یہ گھناؤنا جرم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہمیں زینب قتل کیس میں 80 فیصد کامیابی حاصل ہو گئی ہے، جونہی اس کیس میں کوئی پیشرفت سامنے آئے گی تو اسے پوری قوم کے سامنے رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس ملزم کے پیچھے ہے اور اپنی طرف سے کوششیں کر رہے ہیں، پرامید ہیں کہ اس معاملے کو جلدی حل کر لیں گے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے آئی جی پنجاب پولیس نے کہا کہ اس میں نظر آنے والی تصویر واضح نہیں تھی، اس تصویر کی کوالٹی کو مزید بہتر بنایا گیا لیکن ابھی بھی اس کی کوالٹی بہتر نہیں ہے۔خیال رہے کہ 4 جنوری کو اغواء کی گئی زینب کی لاش تین روز قبل قصور کے شہباز روڈ سے ملی تھی۔ اس واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دی تھیں اور ڈی سی آفس سمیت لیگی ایم پی اے کے ڈیرے پر بھی دھاوا بولا تھا۔ قصور میں 7 سالہ بچی زینب امین کے قتل کے بعد کی جانے والی تحقیقات میں تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ زینب اور دیگر سات بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کی واردات میں ایک ہی شخص ملوث ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے  کہا کہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں 227 کے قریب افراد کو شامل تفتیش کیا گیا اور ان میں سے 67 افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے لیکن کسی ایک بھی شخص کے ڈی این اے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…