جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کانگو میں طوفانی بارشیں ، ہزاروں افراد بے گھر ، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

کانگو (این این آئی)افریقی ملک کانگو میں طوفانی بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورت حال کے نتیجے میں 48 افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمہوریہ ریپبلک کانگو میں 3 جنوری سے شروع ہونے والی بارشوں کا سلسلہ 7 جنوری تک جاری رہا جس میں بڑے پیمانے پر مکانات تباہ ہوگئے، دیواریں گر گئیں اور دارالحکومت کنشاسا میں متعدد

مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے حادثات بھی پیش آئے۔کانگو کے دارالحکومت میں سیلاب کے باعث ایک خاتون کے 5 بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ بارشوں کے باعث ان کا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے اور اگر وہ گھر پر نہیں ہوتے تو ان کے بچے بھی مر چکے ہوتے۔شدید بارشوں کے باعث کنساشا میں ہیضے سمیت متعدد وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صرف ہیضے کے 20 مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں لایا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں بھی کانگو کے 26 میں سے 24 صوبوں میں ہیضے کے 55 ہزار کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے اور اس وبا کے باعث 1190 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔عالمی ادارہ صحت کے حکام کے مطابق ہیضے کے باعث شدید بارشوں کے باعث ہیضے کی وبا بہت تیزی سے پھیلنے کا خدشہ ہے۔خیال رہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ آبادی والا شہر کنساشا حالیہ بارشوں کے باعث سیلاب کے رحم و کرم پر ہے۔ شہر کا تباہ حال انفرا اسٹرکچر، گندے روڈ اور دریائے کانگو کے قریب بنی لکڑی کی جھونپڑیوں کے باعث شہر میں پہلی بارش سے ہی سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…