اسلام آباد/ابوظہبی/واشنگٹن (نیوز ڈیسک) حال ہی میں سامنے آنے والی غیر دستخط شدہ دستاویزات، جنہیں عام طور پر “ایپسٹین فائلز” کہا جا رہا ہے، کے باعث اماراتی سفارتکار Hind Al-Owais میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ ان ریکارڈز میں امریکی سرمایہ کار Jeffrey Epstein کے ساتھ 2011 اور 2012 کے دوران مبینہ ای میل رابطوں کا ذکر شامل ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان دستاویزات میں دونوں شخصیات کے درمیان تقریباً 469 ای میل پیغامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تنازع کی بنیادی وجہ بعض ایسے جملے اور اشارے ہیں جنہیں سوشل میڈیا صارفین اور کچھ غیر ملکی ذرائع مشکوک انداز میں دیکھ رہے ہیں۔
بہن سے متعلق مبینہ ای میل
جنوری 2012 کی ایک ای میل میں مبینہ طور پر ہند الواویس نے ایپسٹین کو اپنی بہن سے متعارف کرانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ “وہ مجھ سے زیادہ حسین ہے۔” سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی گردش کر رہا ہے کہ اس وقت ان کی بہن کم عمر تھی، تاہم اس عمر سے متعلق کسی مستند بین الاقوامی ادارے نے تصدیق نہیں کی۔
متنازع جملہ زیرِ بحث
ایک اور پیغام، جو خاصی تنقید کا باعث بنا، میں ان سے منسوب الفاظ سامنے آئے کہ “ایک لڑکی کو تیار کرنا ہی مشکل ہوتا ہے، دو لڑکیاں تو یقیناً زیادہ چیلنج ہوں گی۔” ناقدین اس بیان کو اخلاقی طور پر نامناسب قرار دے رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے جملے بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت نہیں ہوتے جب تک ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔
پیشہ ورانہ پس منظر
یہ ای میلز اس دور کی بتائی جاتی ہیں جب ہند الواویس کسی بڑے عالمی عہدے پر نہیں تھیں۔ بعدازاں 2015 میں انہیں نیویارک میں UN Women میں سینئر مشیر مقرر کیا گیا۔ دستیاب فائلز میں ان کا ایپسٹین کے حلقے سے قرب ظاہر کیا گیا ہے، مگر اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ اس نے ان کی تقرریوں میں براہِ راست اثر ڈالا ہو۔
قانونی صورتحال
فروری 2026 تک ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ درج نہیں ہوا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فائلز میں موجود مواد ابتدائی اور غیر تصدیق شدہ نوعیت کا ہے، اور محض کسی ریکارڈ میں نام آ جانا جرم ثابت نہیں کرتا۔
عالمی ردِعمل
خواتین و بچوں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم شخصیت ہونے کے باعث ان انکشافات اور ان کی عوامی ساکھ کے درمیان تضاد نے احتساب اور شفافیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تاحال نہ تو ہند الواویس اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کے حکام نے باضابطہ ردعمل جاری کیا ہے، البتہ رپورٹس کے مطابق دستاویزات سامنے آنے کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نجی یا غیر فعال ہو گئے ہیں۔



















































