اسلام آباد (نیوز ڈیسک) صوبائی محکمہ تعلیم اور ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کی واضح ہدایات کے باوجود کراچی اور
سندھ کے متعدد نجی تعلیمی ادارے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے والدین سے آئندہ مہینوں کی فیسیں پیشگی وصول کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق کئی اسکولوں نے جون اور جولائی کی فیسیں ابھی سے، یعنی فروری اور مارچ میں ہی طلب کرنا شروع کر دی ہیں اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ فیس واؤچر بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ بعض ادارے گرمیوں کی تعطیلات کے مہینوں کی فیس کے ساتھ سالانہ فیس بھی وصول کر رہے ہیں، جبکہ مقررہ رقم جمع نہ کرانے والے طلبہ کو کلاس میں شرکت سے روکنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کا مؤقف ہے کہ جون اور جولائی کی فیس پیشگی لینا قانون کے خلاف ہے اور اس پر پابندی عائد ہے۔ دوسری جانب والدین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ حالات میں دو ماہ کی فیس ایک ساتھ ادا کرنا ان کے لیے انتہائی مشکل ہے،
خصوصاً جب رمضان اور عید کی تیاریاں بھی قریب ہوں، جس سے گھریلو اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔متاثرہ والدین کے مطابق اضافی مالی بوجھ ان کے لیے ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔



















































