ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ننھی زینب کو درندگی کی بھینٹ چڑھانے والا کون،آخری مرتبہ کس کے ساتھ گھر سے گئی، والد کے چونکا دینےو الے انکشافات

datetime 11  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )قصور کی بے قصور ننھی شہیدہ زینب جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا کی شہادت کے اندوہناک واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پورے ملک میں اس وقت پاکستانی عوام غم و غصے کی کیفیت میں مبتلا ہیںاور قاتل کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر زینب کے قتل پر تو ہنگامہ برپا ہے اور صارفین زینب کے قاتل کو سر عام پھانسی دئیے

جانے کا مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی دوران زینب کے والدین جو عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں ہراس و یاس کی تصویر بنے نظر آتے ہیں اور ان کا بھی یہی ایک مطالبہ ہے کہ ان کی معصوم بیٹی کے قاتل کو فی الفور گرفتار کر کے سزا دی جائے۔ زینب کے قتل کی تحقیقات اب سنجیدہ اور ماہر تفتیش کاروں کو سونپی گئی ہے اور اسی اثنا میں زینب کے والد نے بھی اہم انکشافات کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ زینب جس شخص کے ساتھ جاتی نظر آتی ہے وہ اس سے مانوس ہے ، زینب کے والد کا کہنا ہے کہ مجرم آس پاس کا ہی کوئی شخص ہے کیونکہ زینب اور ممکنہ مجرم کی سی سی ٹی وی فوٹیج ظاہر کرتی ہے کہ بچی اس شخص سے مانوس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مجرم بچی سے ناواقف ہوتا تو اسے زیادتی کے بعد چھوڑ دیتا قتل نہ کرتا۔زینب آخری بار اپنے کزن کے ساتھ گھر سے گئی تھی جو خود ابھی بچہ ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ یہ قصور میں ہونے والا پہلا واقعہ نہیں یہاں پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔زینب کے والد محمد امین جو انتہائی دکھ کی کیفیت میں تھے کا کہنا ہے کہ قصور میں ہونے والے واقعات کو دیکھتے ہوئے وہ خود زینب کو لینے اور چھوڑنے سکول جاتےتھے جس روز یہ واقعہ ہوا وہ عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب میں تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…