جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قصور میں کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کامسلسل 12واں واقعہ ، اس سے پہلے ہونیوالے والے واقعات کب اور کیسے ہوئے؟شرمناک انکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قصور میں کمسن بچیوں کو زیادتی کے بعد قتل کئے جانے کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں اور اب تک 12 معصوم بچیاں ہوس کا نشانہ بنائے جانے کے بعد قتل کی جا چکی ہیں۔لیکن پولیس خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ ان واقعات میں صرف ایک بچی کو زندگی ملی۔ تھانہ صدر کے علاقے میں ہونے والے ان واقعات کے مقدمات درج ہوئے، مگر صرف کاغذی کارروائی عمل میں لائی گئی۔پہلا واقعہ 6اپریل 2016ء کو

تھانہ صدر کے علاقے میں پیش آیا جہاں تہمینہ نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش زیر تعمیر مکان میں پھینک دی گئی، 4مئی 2016ء کو بھی صدر کے علاقے میں ثنا نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، 8جنوری 2017ء کو بھی دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں عائشہ نامی بچی کو ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا اور لاش زیر تعمیر مکان سے ملی۔19فروری2017ء کو صدر کے علاقے میں ایک اور واقعہ پیش آیا جہاں ملزمان نے 9 سالہ عمران کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا، 24 فروری 2017ء کو صدر کے علاقے میں ایمان فاطمہ نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، صدر میں 11اپریل 2017ء کو ایک اور معصوم بچی نور فاطمہ کو زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی۔21 اپریل 2017ء کو تھانہ صدر کے علاقے میں ہی فوزیہ نامی بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا،7جون 2017ء کو جوئیاں اتاڑ میں 10 سالہ بابر کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیاگیا، 8جولائی کو کھارا روڈ سے 8سالہ لائبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کردیا گیا جبکہ 13نومبر کو کوٹ اعظم خان میں 7سالہ کائنات کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ان تمام واقعات سے قبل بھی حسین خان والا میں لڑکوں سے زیادتی کی ویڈیوز کا اسکینڈل منظر عام پر آیا جس میں 100 کے قریب ویڈیو منظر عام پر آئیں جبکہ واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف 50 سے زائد مقدمات بھی درج ہوئے۔ مرکزی ملزم حسیم عامر اور اس کے بھائی علیم آصف، نسیم شہزاد سمیت درجنوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا، ملزمان کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی درج ہوئے تاہم اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…