بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

مالی سال 18 کے ابتدائی چھ مہینوں میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں نے کتنے ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجیں،حیرت انگیزانکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں نے مالی سال 18 کے پہلے چھ ماہ(جولائی تا دسمبر) میں9744.75 ملین امریکی ڈالر وطن بھجوائے جبکہ گذشتہ برس کی اسی مدت میں9505.11 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔ دسمبر2017 کے دوران کارکنوں کی

ترسیلات زر کی مالیت1723.57 ملین ڈالر تھی جو نومبر 2017 کے مقابلے میں 9.31فیصد زیادہ، اور دسمبر2016 کے مقابلے میں 8.72فیصدزیادہ ہیں۔ بلحاظ ملک دسمبر2017 کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ، خلیج تعاون کونسل کے ملکوں بشمول بحرین، کویت، قطر اور عمان اور یورپی یونین کے ملکوں سے بالترتیب431.97 ملین ڈالر، 396.74 ملین ڈالر،234.76 ملین ڈالر،223.3 ملین ڈالر،188.76 ملین ڈالر، اور 54.87 ملین ڈالر پاکستان بھجوائے گئے،جبکہ دسمبر2016 میں ان ملکوں سے آنے والی رقوم بالترتیب475.75 ملین ڈالر،339.95 ملین ڈالر،182.19 ملین ڈالر، 181.85 ملین ڈالر،203.63 ملین ڈالر اور35.09 ملین ڈالر تھیں۔ دسمبر2017 کے دوران ناروے، سوئٹزر لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور دیگر ملکوں سے آنے والی ترسیلات زر مجموعی طور پر193.17 ملین ڈالر رہیں جبکہ دسمبر2016 میں ان ملکوں سے166.91 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔  بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں نے مالی سال 18 کے پہلے چھ ماہ(جولائی تا دسمبر) میں9744.75 ملین امریکی ڈالر وطن بھجوائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…