جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے چیمبر کا پانی بھی آلودہ نکلا

datetime 6  جنوری‬‮  2018 |

لاہور (سی پی پی ) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار کے چیمبر کا پانی بھی آلودہ نکلا جس پر معزز جج نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس نے مفاد عامہ کے تحت دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ صاف پانی کیس کی فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران ڈائریکٹر پی سی ایس آر  لیبارٹریز نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس کے مطابق

چیف جسٹس پاکستان کے چیمبر سے لیا گیا پانی بھی آلودہ نکلا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رپورٹ پر چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری پنجاب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آرسینک زہر ہے اور ہمیں زہر پلایا جارہا ہے، آپ کو پتا ہے، بڑے شہروں کا آلودہ پانی کن دریاؤں اور ندیوں میں جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتایا جائے ،پانی کینام پر اربوں روپوں کہاں خرچ کیے گئے؟۔معزز جج نے کہا کہ جو کام حکومت کرنے کے تھے، وہ نجی کمپنیوں کے سپرد کردیئے ہیں، حکومت نے آج تک اپنی ترجیحات کا تعین کیوں نہیں کیا، یہ بتائیں، پچھلے 10 سال میں کتنے نئے اسپتال بنائے گئے؟۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے شہر میں سڑکوں کی بندش کا نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی ایک چھوٹا سا وی وی آئی پی ہوں، غالباً وی آئی پی کی فہرست میں میرا تیسرا نمبر ہے، چیف سیکرٹری صاحب، بتائیں بڑے صاحبان کے لیے رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جاتی ہے، آپ کو علم ہونا چاہیے کہ راستے بند کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے جوڈیشل کالونی میں کون بڑا رہتا ہے؟ جس کے کہنے پر رکاوٹیں لگائی گئی ہیں، میر ے گھر کے سامنے سے تو بھٹے والا بھی گزرتا ہے، میں نے تو رکاوٹیں کھڑی نہیں کیں، بڑوں کے گزرنے پر راستے بند ہی کیوں کیے جاتے ہیں؟۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…